مضامین

الفلاح یونیورسٹی پر ہونے والی کارروائی

چند دہشت گردوں کی جرم کی سزا ۶۰۰ بے قصور طلبہ کو دینا ناانصافی

(ندیم عبدالقدیر)

الفلاح یونیورسٹی پر حالیہ کارروائی نے پورے تعلیمی حلقے میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اور دہشت گردی جیسا سنگین جرم کسی بھی معاشرے میں برداشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چند مجرموں یا چند بدنیت عناصر کی وجہ سے ایک پوری یونیورسٹی، اس کے اساتذہ اور خصوصاً ۶۰۰ میڈیکل طلبہ کو کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ کیا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بے قصور طلبہ، جن کا نہ کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق ہے اور نہ ہی انہیں کسی سازش کا علم تھا، ان کی پوری زندگی کو خطرے میں ڈال دیا جائے؟

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، جو صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آئے تھے، جن کے خواب ڈاکٹر بننے کے تھے، جنہوں نے اپنے مستقبل کیلئے محنت، قربانیاں اور جدوجہد کی۔ انہیں ایسی سزا دی جا رہی ہے جیسے وہ خود مجرم ہوں۔ یہ طلبہ تو وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال محنت کے نام کئے۔ نہ جانے ان میں سے کتنے طلبہ ایسے ہیں جن کے والدین نے اپنا گھر تک بیچ کر انہیں تعلیم دلائی، کس کس نے قرض لیا ہوگا، کسی نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کا داخلہ کرایا ہوگا۔ کتنے طلبہ نے دن رات ایک کئے ہوں گے تاکہ وہ ڈاکٹر بن کر اپنے خاندان اور اپنے سماج کے لیے کچھ کر سکیں۔ اُن بچوں کا قصور کیا ہے؟

ان سے کس بات کا بدلہ لیا جا رہا ہے؟ یہ کہنا بھی کسی طرح درست نہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو یہ بات معلوم کیوں نہ ہوئی کہ کچھ افراد غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل تھے۔ جب حکومت کے پاس جدید ترین انٹلی جنس ایجنسیاں موجود ہیں۔را، آئی بی، سی بی آئی، اے ٹی ایس جیسے ادارے ہیں،جن کا بجٹ ہزاروں کروڑ ہے، جن کی ذمہ داری ہی ہر ممکن مشکوک سرگرمی پر نظر رکھنا ہے، جب ایسی ہائی پروفائل اور وسیع وسائل والی ایجنسیاں بروقت کسی سرگرمی کو پکڑنے میں ناکام رہیں تو کیا ایک تعلیمی ادارے سے یہ توقع رکھنا مناسب ہے کہ وہ خفیہ انٹلی جنس ایجنسیوں کا کردار ادا کرے؟

یونیورسٹی کا بنیادی کام تعلیم دینا، تحقیق کرانا اور طلبہ کے مستقبل کی تعمیر کرنا ہے۔ اس کا کام یہ نہیں کہ وہ ہر آنے والے طالب علم کے ذہنوں اور نیتوں کی تفتیش کرے۔ اگر کچھ ناعاقبت اندیش افراد نے یونیورسٹی کے نام کا غلط استعمال کیا تو اس جرم کی ذمہ داری ان تک محدود ہونی چاہئے، نہ کہ پوری یونیورسٹی، اس کے اسٹاف، اور طلبہ کی زندگیوں کو برباد کر دینے کی شکل میں پھیلائی جائے۔ اصل انصاف یہ ہے کہ دہشت گردوں کو خطرے میں ڈالے بغیر سخت سزا دی جائے، لیکن بے گناہوں کو بچایا جائے۔ بے قصور طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا نہ صرف ان کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ یہ ملک کی تعلیمی ساکھ اور انسانی انصاف دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔ ایسے فیصلے قوم کی ہزاروں ہونہار صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایک طالب علم صرف اپنا مستقبل نہیں بناتا بلکہ اپنےپورے خاندان کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے۔ اگر ان ۶۰۰ طلبہ کا کیریئر متاثر ہوتا ہے تو دراصل ہزاروں خاندانوں کو ذہنی، مالی اور جذباتی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جن طلبہ نے سالوں کی محنت، قربانی اور عزم کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی، ان کیلئے یہ فیصلہ ایک ایسا دھچکا ہے جس سے ابھرنا ان کیلئے شاید ناممکن نہ سہی، مگر بھیانک طور پر مشکل ضرور ہوگا۔

حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں ہونے والی کسی بھی سنگین غلطی کو روکے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ان اداروں کو تباہ کر دے، خاص طور پر جب وہاں ہزاروں بے قصور طلبہ پڑھ رہے ہوں۔ اگر چند افراد نے جرم کیا ہے تو سزا انہی تک محدود ہونی چاہئے۔ اگر ایک ادارے میں کوئی خامی ہے تو اصلاحات کی جائیں، نگرانی بہتر کی جائے، لیکن ادارے کو بند کر دینا یا طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دینا کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں۔

آخر میں صرف اتنی درخواست ہے کہ ان ۶۰۰ میڈیکل طلبہ کو بچا لیا جائے۔ ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ ایک ایسے ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جس کے چند افراد نے غلطی کی۔ ان طلبہ کی محنت، خواب اور مستقبل کو چند دہشت گردوں کی حرکتوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ انصاف یہ ہے کہ مجرموں کو سزا ملے، لیکن بے قصوروں کے ہاتھوں سے زندگی کی کتاب نہ چھینی جائے۔
(فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ، ممبئی)

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!