قومی

ووٹروں کے نام حذف کرنے سے قبل نوٹس دینا ضروری – سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک میں آدھار کارڈ کے استعمال، ووٹر لسٹ میں شفافیت اور غیر شہریوں کے ممکنہ ووٹنگ حقوق سے متعلق بڑھتی تشویش پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شہری کا نام ووٹر فہرست سے ہٹانے سے پہلے اسے لازمی طور پر نوٹس جاری کیا جائے۔

چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے متعدد ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کے نظرِ ثانی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ آدھار کارڈ نہ شہریت کا ثبوت ہے اور نہ ہی مستقل رہائش کا دستاویزی ثبوت۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آدھار کا بنیادی مقصد صرف فلاحی اسکیموں تک عوام کی رسائی کو آسان بنانا ہے، اسے کسی بھی طور پر شہریت کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

"کیا محض آدھار رکھنے سے ووٹ کا حق دیا جا سکتا ہے؟” — عدالت کا سوال
بینچ نے آدھار کی بنیاد پر ممکنہ طور پر غیر شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے خدشات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پوچھا:

"کیا صرف آدھار کارڈ ہونے سے کسی غیر شہری کو ووٹ دینے کا حق مل سکتا ہے؟”
عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی جمہوری ساخت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور انتخابی فہرستوں کی درستگی قومی مفاد سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

ووٹروں کے نام ہٹانے کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے
بنچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا حذف کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کا مکمل طور پر بااختیار عمل ہے۔ انہوں نے کہا:

* الیکشن کمیشن محض ڈاکخانہ نہیں جو بغیر تحقیق دستاویزات قبول کر لے
* ووٹر لسٹ میں ہر تبدیلی کا مضبوط جانچ پڑتال سے گزرنا ضروری ہے

عدالت نے ہدایت دی کہ کسی بھی شہری کو ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے سے پہلے وجہ بتانے والا نوٹس دینا لازمی ہے۔

SIR کارروائیوں پر سماعت کا شیڈول طے
تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال میں چل رہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے سماعت کا ٹائم فریم بھی طے کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق:

* الیکشن کمیشن 1 دسمبر تک اپنا تحریری جواب داخل کرے
* درخواست گزار اسی مدت تک اپنی تحریری دلیلیں جمع کرا سکتے ہیں

انتخابی نظام کی شفافیت اولین ترجیح
بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ نہایت حساس ہے اور اسے جلد تفصیلی سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا تاکہ:
* ووٹر لسٹوں کی شفافیت
* انتخابی عمل کی سچائی
* اور شہری حقوق کے تحفظ

کو یقینی بنایا جا سکے۔عدالتی ماہرین کے مطابق یہ کیس مستقبل میں ملک کے انتخابی ڈھانچے، غیر جانب داری اور ملک گیر ووٹر شناختی نظام کے لیے نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!