بابری مسجد تاریخی پس منظر

سید عمران
برصغیر کی تاریخ میں بابری مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ مسلمانوں کے تہذیبی ورثے اور شناخت کی علامت کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ یہ مسجد 1528ء میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر اس کے سپہ سالار میر باقی نے ایودھیا کے مقام پر تعمیر کرائی۔ تین سو سال تک اس مسجد میں مسلمان بلا خوف و خطر عبادت کرتے رہے اور اس پورے عرصے کے دوران اس مقام کے حوالے سے کوئی جھگڑا یا اختلاف سامنے نہیں آیا۔ ہندو اور مسلمان دونوں اپنی اپنی مذہبی زندگی امن و سکون سے گزارتے رہے۔
انگریز دور اور تنازع کی شروعات
1850ء کے بعد حالات بدلنا شروع ہوئے۔ انگریزوں نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کیں۔ 1853ء سے 1855ء کے دوران پہلی مرتبہ یہ دعویٰ سامنے آیا کہ بابری مسجد کی جگہ “رام جنم بھومی” ہے۔ اس سے قبل تاریخ میں کہیں بھی ایسا کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں تھا۔
1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مسجد کے داخلی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے لیے مختص کر دیا۔ یہ پہلا رسمی قدم تھا جس نے آنے والے بڑے تنازع کی بنیاد رکھی۔

عدالتی درخواستیں اور بڑھتا ہوا دباؤ
1877ء اور 1885ء میں ہندو مہنتوں نے مسجد کے صحن میں مندر بنانے کے لیے عدالت سے اجازت لینے کی کوشش کی، مگر دونوں مرتبہ درخواستیں مسترد ہو گئیں۔
1934ء میں ہندو بلوائیوں نے مسجد کو نقصان پہنچایا، تاہم انگریز حکومت نے اس کی مرمت کروا دی۔
1949ء میں ہندو انتہا پسندوں نے رات کے وقت مسجد کے اندر خفیہ طور پر رام کی مورتیاں رکھ دیں اور اعلان کیا کہ “رام جی ظاہر ہو گئے ہیں۔” نتیجتاً مسجد کو مسلمانوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ 1950ء میں ہندوؤں نے دروازے کھلوانے کے لیے درخواست دی جسے عدالت نے قبول کر لیا، یوں دھیرے دھیرے مسجد کا انتظام مسلمانوں سے چھننے لگا۔
1980–1990 کی دہائی: تنازع کی شدت
1985ء میں عدالت میں مندر بنانے کی درخواست دائر ہوئی اور 1986ء میں عدالت نے مسجد کے دروازے ہندوؤں کے لیے کھول دیے۔ مسلمانوں نے اس فیصلے کو شدید مخالفت کے ساتھ مسترد کر دیا، لیکن وشو ہندو پریشد اور دیگر انتہا پسند تنظیموں نے اس موقع کو مندر کی تحریک آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔
1989ء تک یہ تحریک مکمل سیاسی شکل اختیار کر چکی تھی۔ مختلف ہندو تنظیموں نے بڑے جلسے، چندہ مہم اور منظم پلاننگ کے ذریعے عوامی جذبات کو ابھارا۔ 1990ء میں انتہا پسندوں نے مسجد کی طرف مارچ کی کوشش کی لیکن پولیس نے روکا۔
سانحۂ 6 دسمبر 1992ء
آخرکار 6 دسمبر 1992ء وہ دن آیا جب لاکھوں ہندو انتہا پسند ایودھیا میں جمع ہوئے۔ سیکیورٹی موجود ہونے کے باوجود مشتعل ہجوم نے چند گھنٹوں میں تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ مسجد کی شہادت نے نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں بلکہ پوری مسلم دنیا کو صدمے سے دوچار کر دیا۔
یہ واقعہ مذہبی ہم آہنگی، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک سیاہ دھبہ بن کر رہ گیا۔
بعد ازاں عدالتی مقدمات اور فیصلے
مسجد کی شہادت کے بعد طویل مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا۔
2010ء میں الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازع زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا:
1. ایک حصہ ہندوؤں کو
2. ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو
3. ایک حصہ نرموہی اکھاڑے کو
یہ فیصلہ بھی مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہ تھا۔

سپریم کورٹ کا 2019ء کا تاریخی فیصلہ
نومبر 2019ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ:
1) 1528ء میں وہاں مسجد ہی تعمیر کی گئی تھی۔
مسلمانوں کو عبادت گاہ تاریخی طور پر ثابت ہے۔
اس مقام پر اس سے پہلے کوئی پختہ مندر موجود تھا، اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔
2) مسلمانوں کا طویل قبضہ اور عبادت ثابت ہے
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ:
تقریباً 300 سال تک مسلمان وہاں باقاعدگی سے نماز پڑھتے رہے۔
3) 1949 میں مسجد کے مورتیاں رکھنا غیر قانونی تھا۔
4) مسجد کو 1992ء میں شہید کرنا غیر قانونی تھا۔
لیکن۔۔۔ ان تمام تسلیم شدہ نکات کے باوجود فیصلہ کس کے حق میں دیا گیا؟
سپریم کورٹ نے ان چاروں باتوں کو مسلمانوں کے حق میں سچ ثابت ہونے کے باوجود
زمین کا مکمل حق ہندو فریق کے حوالے کر دیا۔
یہ کونسا انصاف ہے جس میں عدالت نے پوری متنازع زمین مندر کی تعمیر کے لیے اس فریق کے سپرد کر دی جو خود آپ کی انصاف کی عدالت میں مجرم قرار پایا، جبکہ مسلمانوں کو مسجد کے لیے دوسری جگہ زمین فراہم کرنے کا حکم دیا۔
نتیجہ
بابری مسجد کا واقعہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب قومیں کمزور ہو جائیں، تقسیم ہو جائیں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد نہ ہوں تو وہ اپنے تاریخی ورثے، مذہبی آزادی اور شناخت سے بھی محروم ہو سکتی ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ:
اپنی صفوں میں اتحاد ضروری ہے
انصاف کے لیے مسلسل کوشش ضروری ہے
اور اپنی مذہبی و تاریخی شناخت (اوقاف) کی حفاظت کے لیے دانشمندی، یکجہتی اور جدوجہد ضروری ہے۔
بابری مسجد کی شہادت مسلمانوں کے دلوں پر ہمیشہ تازہ رہنے والا زخم ہے، یہ زخم ہمیں بیدار کرتا ہے کہ ہم متحد ہو کر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم ہو اور اُمّت کے ورثے کی حفاظت میں آٹھ کھڑے ہو۔




