مضامین

افسانہ: بارش سب کے لیے ایک سی کہاں ہوتی ہے! 

آز قلم : خان افراء تسکین (اورنگ آباد)

فون نمبر: 9545857089
کھڑکی کے شیشے پر بارش کی بوندیں مسلسل دستک دے رہی تھیں۔ آسمان پر سیاہ بادلوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی، اور ٹھنڈی ہوا میں بھیگی ہوئی مٹی کی خوشبو اس طرح رچ بس گئی تھی جیسے زمین نے برسوں بعد سکون کا ایک لمبا سانس لیا ہو۔
شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع ایک عالی شان بنگلے کی دوسری منزل کی بالکونی میں حمزہ آرام دہ کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کافی مگ تھا، سامنے گرم گرم پکوڑے رکھے تھے، اور وہ بارش کی دلکش خوبصورتی میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ جیسے دنیا میں اس لمحے اس سے زیادہ حسین کوئی منظر نہ ہو۔
سامنے ہرے بھرے لان میں بارش کے قطرے موتیوں کی طرح بکھر رہے تھے۔ درختوں کی شاخیں ہوا کے ساتھ جھوم رہی تھیں اور ہر طرف تازگی ہی تازگی پھیلی ہوئی تھی۔
حمزہ بے اختیار مسکرایا۔
"واہ… کیا حسین موسم ہے!”
اس نے موبائل اٹھایا، چند تصویریں کھینچیں اور سوشل میڈیا پر لکھ دیا…
"رین اِز لو۔”
چند لمحوں میں comments کی بھرمار ہونے لگی۔
"بیوٹی فل ویدر…”
"انجوائنگ رین…”
"پرفیکٹ ایوننگ…”
حمزہ نے مسکراتے ہوئے فون ایک طرف رکھ دیا۔
مگر…
اسی کے برعکس شہر کے دوسرے کنارے ایک بالکل الگ دنیا آباد تھی۔
جہاں نہ کشادہ سڑکیں تھیں…
نہ سرسبز باغ…
نہ خوبصورت بالکونیاں…
اوہ ایک تنگ، کچی بستی تھی۔
بارش وہاں بھی برس رہی تھی…
لیکن اس بارش کی آواز مختلف تھی۔
اور یہاں کا منظر بھی۔
وہ چھتوں پر نہیں…
لوگوں کی بے بسی پر برس رہی تھی۔
ساٹھ سالہ سلیم اپنے بوسیدہ گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرانی پلاسٹک کی چادر تھی جسے وہ بار بار مختلف جگہوں پر پھیلاتا، مگر بارش کی ہر نئی بوند چھت میں ایک نیا سوراخ تلاش کر لیتی۔
نیچے اس کی بیوی نسیم بی بی بے چینی سے اِدھر اُدھر دوڑ رہی تھیں۔
جہاں پانی ٹپکتا…
وہاں فوراً ایک بالٹی رکھ دیتیں۔
پھر کسی اور کونے سے قطرے گرنے لگتے…
تو وہاں کوئ برتن رکھ دیتیں۔
لیکن بارش تھی کہ ہر طرف سے اپنا راستہ بنا رہی تھی۔
فرش آہستہ آہستہ بھیگتا جا رہا تھا۔
کمرے کے ایک کونے میں چھ سالہ مریم اپنی اسکول کی کتابیں سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
وہ کبھی انہیں کپڑے میں لپیٹتی…
پھر بے چینی سے دوبارہ کھول کر دیکھتی کہ کہیں پانی اندر تو نہیں پہنچ گیا۔
ابھی اسکول شروع ہوئے چند ہی دن گزرے تھے۔
یہ کتابیں اسکول کی جانب سے مفت تقسیم کی گئی تھیں۔
اگر یہ خراب ہو جاتیں تو شاید دوبارہ نہ ملتیں۔
شام کے کھانے کا وقت بھی قریب آ رہا تھا۔
چولہے کے لیے جمع کی گئی لکڑیاں بھی چھت سے ٹپکتے پانی میں پوری طرح بھیگ چکی تھیں۔
ایسے میں رات کا کھانا پکانا تقریباً ناممکن سا ہو گیا تھا۔
اوپر سے ان کے علاقے میں معمولی سی بارش ہوتے ہی بجلی چلی جاتی تھی۔
گھر اندھیرے، نمی اور خاموشی میں ڈوب چکا تھا۔
دوسری جانب سلیم…
وہ بارش سے نہیں بھیگا تھا…
وہ اپنی بے بسی میں بھیگ گیا تھا۔
بارش ان کے لیے موسم نہیں…
ایک آزمائش تھی۔
ادھر پوش علاقے میں بچے بارش کے مزے لے رہے تھے۔
اور ادھر کچی بستی میں بچے ہاتھ اٹھا کر بارش رکنے کی دعائیں مانگ رہے تھے۔
ادھر لوگ کہہ رہے تھے…
"کاش بارش اور تیز ہو جائے!”
اور ادھر کانپتے ہوئے لبوں سے صرف ایک دعا نکل رہی تھی…
"یا اللہ… بس اب روک دے۔”
شام ڈھل گئی۔
بارش کچھ ہلکی ہوئی تو سلیم تھکے قدموں سے نیچے اترا۔
اس نے بھیگی ہوئی دیواروں کو دیکھا…
پھر بھیگا ہوا بستر…
پھر بھیگی ہوئی لکڑیاں…
اور آخر میں اپنی ننھی بیٹی کو…
جو سورج نہ ہونے کے باوجود کتابوں کو ہوا میں خشک کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
سلیم کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
مگر وہ مسکراہٹ خوشی کی نہیں…
برسوں کی تھکن، مجبوری اور صبر کی تھی۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
سلیم نے دروازہ کھولا تو سامنے پڑوس کا نوجوان عدنان کھڑا تھا۔
اس کے ہاتھ میں چند برتن تھے جن سے تازہ کھانے کی خوشبو آ رہی تھی۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا،
"السلام علیکم سلیم چچا!
امی نے آپ لوگوں کے لیے کھانا بھیجا ہے۔
ہم نے دیکھا آپ کی چھت سے پانی گر رہا ہے۔
ایسے میں چولہا جلانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔”
یہ کہہ کر وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔
سلیم چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔ اپنا کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔
سلیم کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا۔
بارش شاید رک گئی تھی…
مگر دل کے بادل برس پڑے تھے۔
اس رات مریم سکون سے سوئی۔
آج اللہ نے عدنان کو ان کے لیے ایک فرشتہ بنا کر بھیجا تھا۔
سلیم دل ہی دل میں یہی سوچتا رہا کہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
وہ کسی نہ کسی کو ذریعہ ضرور بنا دیتا ہے۔
زندگی میں آزمائشیں ضرور آتی ہیں…
لیکن وہ اپنے ساتھ ان کا حل بھی لے کر آتی ہیں۔
ورنہ اس مطلبی دنیا میں، جہاں کبھی کبھی خون کے رشتے بھی اپنا حق ادا نہیں کرتے…
وہاں کون اپنے پڑوسی کی بھوک، تکلیف اور بے بسی کو محسوس کرتا ہے؟
کتابیں بھیگ چکی تھی ۔
چھت پوری طرح تو نہیں سنبھلی…
مگر اتنی ضرور بچ گئی کہ رات گزر سکے۔
اسی رات حمزہ حسبِ معمول اپنے موبائل پر سوشل میڈیا دیکھ رہا تھا۔
اس کی پوسٹ "رین اِز لو” پر سینکڑوں کمنٹ آ چکے تھے۔
کوئی موسم کی تعریف کر رہا تھا، کوئی پکوڑوں کی تصویر پسند کر رہا تھا، اور کوئی بارش کو محبت کا نام دے رہا تھا۔
حمزہ ہر کمنٹ پڑھ کر مسکرا ہی رہا تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی۔
اس نے موبائل ایک طرف رکھا اور بالکونی میں آ کھڑا ہوا۔
بارش اگرچہ اب ہلکی ہو چکی تھی، مگر دور شہر کے اس حصے میں، جہاں کچی بستیاں آباد تھیں، اندھیرے کا راج تھا۔
اسی دوران اس کی نظر سڑک پر پڑی۔
ایک رکشہ آہستہ آہستہ پانی چیرتا ہوا گزر رہا تھا۔ اس میں ایک شخص ایک عورت اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ عورت نے اپنے سر پر ایک پرانی چادر ڈال رکھی تھی تاکہ بارش سے کچھ بچ سکے۔
رکشہ چند لمحوں کے لیے ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچے رکا۔
اس ایک لمحے میں حمزہ نے ان کے چہروں پر چھپی ہوئی تھکن، پریشانی اور بے بسی صاف دیکھ لی۔
رکشہ آگے بڑھ گیا…
مگر وہ منظر حمزہ کی آنکھوں میں ٹھہر گیا۔
اس نے اپنی بالکونی سے باہر دیکھا۔
وہی بارش…
وہی بادل…
مگر منظر ایک جیسا نہیں تھا۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ جس بارش کو وہ خوبصورتی سمجھ کر تصویروں میں قید کر رہا تھا، وہی بارش کسی کی چھت گرا رہی ہے، کسی بچے کی کتابیں بھگو رہی ہے، کسی ماں کے چولہے کی آگ بجھا رہی ہے اور کسی باپ کی بے بسی میں اضافہ کر رہی ہے۔
اس نے خاموشی سے اپنا کافی مگ میز پر رکھ دیا۔
اس رات وہ دیر تک سو نہ سکا۔
اگلی صبح بارش تھم چکی تھی۔
حمزہ اپنی گاڑی میں راشن کٹس ، کمبل اور بچوں کے لیے کاپیاں اور کتابیں رکھ کر شہر کی اسی کچی بستی کی طرف روانہ ہو گیا۔
تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے اور کئ خاندانوں سے مل کر انکی مدد کرنے کے بعد وہ سلیم کے گھر کے سامنے جا پہنچا۔
سلیم اب بھی بھیگی ہوئی دیوار کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
حمزہ خاموشی سے آگے بڑھا، سلام کیا اور سامان اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
سلیم حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
حمزہ نے مسکراتے ہوئے صرف اتنا کہا،
"کل تک میں سمجھتا تھا کہ بارش صرف خوبصورت ہوتی ہے…
آج معلوم ہوا کہ بارش کسی کے لیے آزمائش بھی بن جاتی ہے۔
اگر اللہ نے مجھے آسانی دی ہے تو شاید اس کا مقصد یہی ہے کہ میں کسی اور کی مشکل کچھ کم کر سکوں۔”
سلیم کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا،
"اللہ آپ کو خوش رکھے، بیٹا۔”
واپسی پر حمزہ نے اپنا موبائل نکالا۔
اس نے اپنی پہلی پوسٹ دیکھی، جس پر لکھا تھا:
"رین اِز لو۔”
چند لمحے وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔
اس کی جگہ اس نے صرف ایک جملہ لکھا:
"بارش واقعی سب کے لیے ایک سی نہیں ہوتی۔ اگر آپ محفوظ ہیں تو کسی ایسے شخص کو ضرور یاد کیجیے جس کے لیے یہی بارش ایک آزمائش بن گئی ہو۔”
اس بار اس کی پوسٹ پر صرف کمنٹ ہی نہیں آئے…
بلکہ کئی لوگوں نے لکھا کہ وہ بھی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کریں گے۔
حمزہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔
بادل وہی تھے…
بارش بھی وہی تھی…
مگر آج اس کی نظر بدل چکی تھی۔
آج اسے معلوم ہوا کہ بارش کی اصل خوبصورتی اس کے قطروں میں نہیں…
بلکہ اُن ہاتھوں میں ہوتی ہے جو کسی بھیگتے ہوئے انسان کا سہارا بن جائیں۔
اگلی صبح سورج پوری آب و تاب سے نکلا۔
بارش کے قطرے پتوں پر موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔
شہر کے لوگ ایک بار پھر تصویریں بنانے اور موسم سے لطف اندوز ہونے میں مصروف تھے۔
مگر سلیم نے سورج کی طرف دیکھا اور صرف اتنا کہا…
"الحمدللہ۔”
کیونکہ اس کے لیے سورج صرف خوبصورتی نہیں…
راحت تھا۔
تب مجھے احساس ہوا…
بارش واقعی سب کے لیے ایک سی نہیں ہوتی۔
کسی کے لیے وہ بالکونی میں بیٹھ کر کافی مگ کے ساتھ گرم گرم پکوڑوں کا لطف ہے…
اور کسی کے لیے پوری رات چھت سے ٹپکتے پانی کے ساتھ جاگنے کا نام۔
کسی کے لیے بارش حسین یادیں لے کر آتی ہے…
اور کسی کے لیے فکر، قرض، بھوک اور بے بسی۔
قدرت تو سب پر ایک جیسی برستی ہے…
مگر حالات ہر انسان پر الگ انداز سے اترتے ہیں۔
اسی لیے موسموں کا لطف لینے سے پہلے اُن لوگوں کو بھی ضرور یاد رکھنا چاہیے…
جن کے لیے یہی موسم ایک نئی آزمائش بن کر آتا ہے۔
کیونکہ…
بارش سب کے لیے ایک سی کہاں ہوتی ہے!
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!