اسلامی

محرم الحرام غمناک مہینہ نہیں بلکہ عبرت و موعظت کا مہینہ ہے

شفیع احمد قاسمی استاذ حدیث جامعہ ابن عباس احمد آباد

محرم الحرام ہجری کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ عظمت و برکت اور بزرگی والا مہینہ ہے۔ حدیث پاک میں جسے شہر اللہ المحرم فرمایا گیا اور اسے خدا کا مہینہ قرار دیا گیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس مہینے میں صحابی رسول جگر گوشہ بتول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا جانکاہ سانحہ پیش آیا۔ کچھ لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جانے لگی کہ محرم الحرام کی حرمت و عظمت شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اس مہینے میں ان کی شہادت سے ان کا اعزاز و مرتبہ مزید دو بالا ہو جاتا ہے کہ قدرت نے ان کی شہادت کے لیے وہ مہینہ چنا جسے قرآن نے اربعۃ حرم سے زینت بخشی اور اسے محترم مہینہ قرار دیا، اور جس مہینے کو زبان رسالت سے شہر اللہ کا خطاب ملا ۔ جبکہ اس کی عظمت و بزرگی قدرت نے روز ازل سے طے کر رکھی ہے۔ قرآن پاک کا صاف اعلان موجود ہے: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔( التوبہ: 36 )

ان محترم مہینوں میں پہلا مہینہ محرم الحرام ہے اور باقی تین مہینے ذو القعدہ ذوالحجہ اور رجب ہیں۔
جاننا چاہیے کہ محرم الحرام کا مہینہ کیا غم اور سوگ کرنے کا مہینہ ہے؟ کیا اس مہینے میں سیاہ لباس زیب تن کیا جائے؟ کیا یہ ماتم اور سینہ کوبی کا مہینہ ہے؟ مسلمانوں کا ایک طبقہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی وجہ سے ماتمی لباس میں ملبوس ہوتا ہے، اس مہینے میں غم اور سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔ اس امر پر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ کیا اسلام میں شہادت پر ماتم و نوحہ کرنے کی گنجائش ہے؟ اور سینہ کوبی کی اجازت دی گئی ہے؟

اس سے مجال انکار نہیں کہ سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر عظیم المرتبت صحابی رسول ہیں۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اور لاڈلے نواسے ہیں؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی تاریخ میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے زیادہ عالی مرتبت و بلند رتبہ شخصیات کی بھی شہادت ہوئی ہے؛ چنانچہ جب ہم تاریخ کے جھروکے سے جھانکتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ جنتی نوجوانوں کے سردار حضرات حسنین کے والد بزرگوار شیر خدا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو 17/ رمضان المبارک سن 40 ہجری جمعہ کے دن شہید کیا گیا جبکہ وہ نماز فجر کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ حالانکہ آپ کی شان میں زبان فیض ترجمان سے یہ فضیلت صادر ہوئی کہ : الحسنُ والحُسَينُ سيِّدا شبابِ أهْلِ الجنَّةِ وأبوهما خيرٌ منهُما.

أخرجه ابن ماجة (١١٨ ) علی ان دونوں سے افضل و بہتر ہیں۔ اسی طرح اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان خلیفہ رابع حضرت علی سے افضل اور بہتر ہیں۔ ان کی شہادت کا سانحہ 18/ ذی الحجہ یوم جمعہ سنہ 35/ ہجری کو بڑے دردناک انداز میں پیش آیا۔ تین دن تک لاش مبارک بے گور و کفن پڑی رہی، بالآخر رات کی تاریکی میں انہیں دفن کیا گیا، ( تاریخ اسلام 1/ 414 ) اسی طرح اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان سے افضل ہیں۔ یکم محرم الحرام سن 24 ہجری ہفتہ کے دن ان کی بھی شہادت کا سانحہ پیش آیا، یہ حقیقت روشن کی طرح عیاں ہے، کہ تینوں خلفاء حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے افضل اور بہتر ہیں؛ لیکن ان میں سے کسی کی شہادت پر ماتم و نوحہ نہیں کیا گیا، نہ ہی ماتمی لباس پہنا گیا اور نہ ان کے یوم شہادت پر سینہ کوبی کی گئی۔ چلیے ذرا اور ترقی کیجئے خلاصۃ الکائنات سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کوئی ماتم و نوحہ نہیں کیا گیا۔

ان سے زیادہ عظیم المرتبت ہستی اس کائنات رنگ و بو میں نہ آئی ہے نہ آئے گی، پھر بھی ان کی وفات پر ماتم و نوحہ نہیں کیا گیا تو بھلا کون ایسی ہستی ہے جن کی شہادت پر ماتم کیا جائے۔ غور کیجیے خود سرور کائنات کی حیات طیبہ میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام کی شہادت ہوئی لیکن آقائے نامدار نے کسی کی شہادت پر ماتم و نوحہ نہیں کیا؛ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی شہادت پر ماتم کرتے تو سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ضرور ماتم و نوحہ کی اجازت دیتے کہ ان کو انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا، ان کو مثلہ کیا گیا، ان کے ناک کان کاٹے گئے ان کے سینے کو چیر کر کلیجہ نکالا کر چبایا گیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر ہر عظیم شخصیت کی شہادت پر شریعت ماتم کرنے کی اجازت دیتی تو صرف انبیاء کرام کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ شاید کوئی دن غم سے خالی نہ ہوتا پھر صحابہ کرام اور اولیاء عظام تو ان کے سوا ہیں ۔ خدارا ذرا سوچیے!
خداۓ پاک ہمیں صحیح غور و فکر کی اور صراط مستقیم پر قائم و دائم رہنے کی توفیق بخشے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!