رشتوں کا زوال اور انسان کی تنہا موت ترقی یافتہ دنیا کا سب سے بڑا المیہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
یہ ایک نہایت ہی دردناک اور کربناک حقیقت ہے جو ہر سال جدید اور تکنیکی طور پر نہایت ترقی یافتہ جاپان میں سامنے آتی ہے کہ بتیس تا پینتیس ہزار سے زائد بوڑھے افراد تنہائی کی اذیت ناک گہرائیوں میں گم ہو کر اپنی زندگی کا اختتام کر دیتے ہیں۔ موت تو ہر بشر کا مقدر ہے، لیکن ایسی موت… جسے محسوس کرنے والا کوئی نہ ہو، جس کی خاموش جدائی پر آہ بھرنے والا بھی کوئی نہ ہو، نہ کندھا دینے والا، نہ دعا پڑھنے والا۔ یہ لمحہ انسانی تہذیب کی پیشانی پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو ترقی کے تمام دعوؤں کو جھٹلانے کے لیے کافی ہے۔
زمانہ جس کو ترقی کا مقدّر کہتا ہے
اسی زمانے نے انسان کو اکیلا کر دیا
رشتوں، جذبوں اور تعلقات کی دنیا سے قلعہ بند، چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والا معاشرہ جب جذبات کی سرحدیں کھو دیتا ہے، تو انسان زندہ رہتے ہوئے بھی مر جاتا ہے۔ افسوس! کہ ان افراد کی موت کا علم اکثر کئی ہفتوں بعد، بلکہ کبھی مہینوں گزر جانے پر ہوتا ہے، جب دروازہ توڑنے پر زندگی کا آخری منظر سڑانڈ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دروازے کی اوٹ میں سسکتی ہوئی زندگی اور پھر خاموشی کے پردے میں ڈھلتی ہوئی تنہاء موت… نہ پوچھنے والا، نہ یاد کرنے والا۔
اس المناک صورتحال کو جاپانی زبان میں "کودوکا شی” (Kodokushi) کہا جاتا ہے۔
ایک ایسا لفظ جو خود ایک سماجی المیہ اور دردناک داستان ہے: "تنہا موت”!!! ایسی موت جس میں دل کی دھڑکن بند ہونے سے کہیں پہلے احساسات مر چکے ہوتے ہیں… جس میں تنہائی انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کھا جاتی ہے۔ یعنی ایسی موت جس کے اردگرد نہ اپنوں کی سانس، نہ کسی کا لمس، نہ کوئی دعا، نہ کوئی حوصلہ!
تحقیق بتاتی ہے کہ جاپان میں اکیلی رہائش اب ایک عام طرزِ زندگی بنتی جا رہی ہے۔ شادی کے رجحان میں کمی اور اولاد کی کم تعداد نے خاندان کے نظام کو متزلزل کر دیا ہے۔ معاشی مصروفیت نے اولاد کو والدین سے دور کر دیا ہے۔ بوڑھے افراد میں ڈپریشن اور سماجی بے دخلی بڑھ گئی ہے۔ طویل عمر کی شرح (Average Life Expectancy) دنیا میں سب سے زیادہ ہونے کے باوجود بڑھاپے میں رفاقت کا فقدان بدترین اذیت بن چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مادی ترقی اور روحانی تنزلی آمنے سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔
جاپان ہی کا وہ دل دہلا دینے والا واقعہ آج بھی انسانیت کے دل پر دستک دیتا ہے۔ اوساکا کے تقریباً بیانوے سالہ فالج زدہ بزرگ کا واقعہ آج بھی جاپانی معاشرے کے وجود کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ان کی کمزور آواز کو سننے والی، ان کی بیماری میں ہاتھ تھامنے والی صرف ان کی بیوی تھیں۔ ان کی بیوی ہی ان کی دنیا تھی، ان کی آواز، ان کا ہاتھ، ان کی امید… لیکن جب وہ بیوی بھی خاموش ہو گئی، تو یہ بے بس وجود انتظار اور بے کسی کے بیابان میں سلگتا رہا۔ لیکن جب وہ بھی خاموش ہو گئیں تو بے بسی میں پڑا یہ بے سہارا وجود کئی ہفتوں تک اسی طرح پڑا رہا… کسی نے خبر نہ لی، کوئی دروازہ کھٹکھٹانے نہ آیا۔
جب خاموشی ناقابلِ برداشت ہوگئی تو دروازہ ٹوٹا، لیکن سامنے زندگی کا ایک خالی منظر تھا؛ دونوں میتیں… وقت کی بے حسی پر گواہی دیتی ہوئیں۔ کئی ہفتوں کے بعد جب دروازہ ٹوٹا تو محبت اور رفاقت کی دونوں لاشیں بے حسی کی چادر میں لپٹی ہوئی پائی گئیں۔ ان کا بیٹا؟ برسوں پہلے کہیں دور جا چکا تھا، تنہائی کے بوجھ تلے دبے والدین شاید اس کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہ تھے۔ جس کے وجود سے یہ رشتے جڑے تھے… وہ برسوں پہلے اپنی دنیا سنوارنے چلا گیا تھا، مگر ماں باپ کی شکستہ دنیا میں کبھی پلٹ کر نہ جھانکا!
آج کا دور تکنیکی ترقی، اقتصادی سکّت اور فردیت کی تیز رفتار قدروں کا دور ہے۔ ان تبدیلیوں نے جہاں انسانی زندگی کے معیار میں کئی شعبوں میں اضافہ کیا، وہاں انہوں نے اجتماعی ربط اور قریبی تعلقات کے روایتی ڈھانچوں کو کمزور بھی کر دیا۔ جب رشتوں کی بنیادیں کمزور پڑتی ہیں تو لوگ بظاہر ساتھ ہوتے ہوئے بھی باطناً الگ ہو جاتے ہیں۔ گفتگو، مشترکہ وقت اور معنی خیز رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ بزرگ، اکیلے رہنے والے یا بیمار افراد کو سماجی نیٹ ورک کی کمی کی وجہ سے کم معاونت ملتی ہے۔ ڈپریشن، اضطراب اور خود کشی کے رجحانات میں اضافہ ہوتا ہے، جب انسانی حمایت کم ملے۔
اسلامی تعلیمات میں صلۂ رحمی کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ اس کے چند معنوی نکات قابلِ غور ہیں۔ رشتہ داری کو جوڑے رکھنا معاشرتی فلاح اور فردی سکون کا ذریعہ ہے۔ یہ صرف ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ سماجی نظام کی بنیادی ضمانت ہے۔ رشتے توڑنے کو نہ صرف معاشرتی بدلاہوت (تباہی) کہا گیا ہے بلکہ اسے دینی طور پر بھی سنگین جرم تصور کیا گیا ہے، کیوں کہ اس سے خاندان، معاشرہ اور فرد کے درمیان وہ قرابت ختم ہوتی ہے جو انسان کو زندگی کا معنی دیتی ہے۔ اسلام میں رشتہ داری کا حکم انسانی فلاح و بہبود کے مدلل شواہد کے ساتھ جڑا ہوا ہے: بزرگوں کا احترام، یتیموں کی حمایت، پڑوسیوں کی نگہداشت، اور قریبی رشتہ داروں کے حقوق۔ یہ ہدایات اجتماعی ہم آہنگی، امدادِ باہمی اور جذباتی تحفظ کو فروغ دیتی ہیں۔
اسلامی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ صلۂ رحمی اور بزرگوں کا احترام ایک مکمل اور مثالی اسلامی معاشرے کی بنیادی پہچان رہا ہے۔ نبیِ کریمﷺ اکثر حضرت اُمِ ایمنؓ کے گھر تشریف لے جاتے، ان کا حال پوچھتے اور فرمایا: "یہ میری ماں کے بعد ماں ہیں”۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ رسولﷺ رشتہ نبھانے کو صرف قول نہیں بلکہ عملی سنّت سمجھ کر انجام دیتے تھے۔ حضرت ابو جندلؓ جب زنجیروں میں آئے تو ان کے والد سہیل بن عمرو اس وقت کفّار میں تھے، مگر باپ اور بیٹے کی محبت کی تاثیر نے پورے ماحول کو ہلا دیا۔ یہ منظر ظاہر کرتا ہے کہ خون کے رشتے انسان کے دل میں کیسی طاقت رکھتے ہیں، چاہے دین و نظریات کی دیواریں درمیان میں ہوں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ، خلافتِ اولیٰ کے بلند ترین منصب پر فائز ہونے کے باوجود، اپنے بیمار والد کی عیادت اور خدمت کو اپنی اوّلین ذمّہ داری سمجھتے تھے۔ یہ مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ مقام خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، والدین کی خدمت ہمیشہ زندگی کی سب سے اعلیٰ ترجیح رہنی چاہیے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں والدین کے احترام کو ایک اہم سماجی اور دینی فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ ایک موقع پر ایک بزرگ باپ نے اپنے بیٹے کی شکایت پیش کی تو حضرت عمرؓ نے بیٹے کو سخت تنبیہ فرمائی اور واضح کیا کہ: "والد کے حقوق میں کوتاہی ایمان کی کمزوری ہے”۔ ریاستی سطح پر بزرگوں کے احترام اور ان کے تحفّظ کو یقینی بنانے کا یہ نہایت روشن نمونہ تھا۔ حضرت علیؓ کا راتوں کی تاریکی میں بے سہاروں کے گھروں تک خوراک پہنچانا، اسلام کے سماجی احساس کی سب سے روشن مثال ہے۔ یتیم اور بے سہارا افراد، رسولﷺ کی امت میں ہمیشہ مرکزِ محبت رہے۔
حکومتی سطح پر بوڑھوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے یہ اصول نافذ فرمایا کہ: "جس کے پاس گھر نہ ہو، حکومت اسے گھر فراہم کرے گی، اور جو کمانے کی سکت نہ رکھتا ہو، اس کا خرچ بیت المال برداشت کرے گا”۔ یہ وہ عادلانہ نظامِ کفالت تھا جو کسی بزرگ کو تنہائی، غربت یا بے بسی میں مرنے نہیں دیتا تھا بلکہ اسے عزّت، سہارا اور زندگی کی بنیادی ضمانت مہیا کرتا تھا۔ اسلام نے یہ تعلیم دی کہ رشتے عبادت ہیں، خدمت نجات ہے اور بزرگ رحمت ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کے عروج کا دور مضبوط خاندانی نظام کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ یہی تعلیمات آج بھی جدید دنیا کے اجتماعی زوال کو روکنے کا واحد حل ہیں۔
کام، پیشہ ورانہ مقابلہ اور معاشی دباؤ افراد کو روزمرّہ زندگی کے ایسے راستوں پر لے آتے ہیں جہاں تعلقات کے لیے وقت کم ملتا ہے۔ نوکری یا بہتر معیارِ زندگی کے تقاضوں نے خاندانوں کو منتشر کر دیا۔ بزرگ اپنے بچّوں سے دور رہ جاتے ہیں۔ ذاتی آزادی اور خود مختاری (Individualism) کی قدروں نے بعض اوقات اجتماعی ذمّہ داریوں کو کم اہم بنا دیا۔ جب رشتے رسمی آداب اور رسم و رواج تک محدود رہ جائیں، تو وہ جذباتی گہرائی کھو دیتے ہیں۔ محبت اور وابستگی کا بدل صرف رسمی تمکنت رہ جاتا ہے۔
بظاہر گھروں میں افراد موجود ہوتے ہیں مگر کیفیتِ تعلق غائب ہوتی ہے۔ لوگ اپنی الگ دنیاوں میں محو رہتے ہیں۔ تنہائی نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ قوتِ مدافعت، دل کی صحت، نیند کے مسائل وغیرہ۔ جب رشتے کمزور ہوں تو معاشرے میں باہمی اعتماد و تعاون میں کمی آتی ہے، جو مجموعی طور پر سماجی فضاء خراب کرتی ہے۔ اس سنگین سماجی مسئلے کے حل کے لیے ہمیں مختلف سطحوں پر بیک وقت کوشش کرنا ہوگی، تاکہ ہر انسان کو، خصوصاً بزرگ افراد کو، وہ تعلق، توجہ اور احترام میسر آ سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔
ذاتی سطح: سب سے پہلے ہمیں اپنی ذمہ داری کو پہچاننا ہوگا۔ رشتہ داروں کو باقاعدگی سے کال کرنا، وقتاً فوقتاً ملاقات کرنا یا کم از کم ایک پیغام کے ذریعے ان کا حال پوچھنا۔ یہ معمولی عمل نہیں، بلکہ جذباتی سہارا ہے۔ بزرگوں کو گھر کے معمولات میں شامل رکھنا، ان کی رائے کا احترام کرنا اور ان کے لیے وقت نکالنا ہمارے کردار کا سب سے خوبصورت حصّہ ہونا چاہیے۔
خاندانی سطح: خاندان وہ قلعہ ہے جو انسان کو تنہائی کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہمیں بچوں کی تربیت اس طرح کرنی چاہیے کہ ان کے دلوں میں والدین، دادا دادی اور نانا نانی کے لیے محبت، خدمت اور احترام کی بنیاد مضبوط ہو۔ گھر میں ایسی روایت قائم ہو کہ سب افراد روزانہ یا کم از کم ہفتہ وار ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں، ہنسیں، ایک دوسرے کو سنیں، یہی مشترکہ لمحات رشتوں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔
سماجی و علاقائی سطح: ہماری گلیاں، محلے اور مساجد سب کو اجتماعی محبت کا مرکز بننا چاہیے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے حالات سے باخبر رہیں، کمیونٹی سینٹر قائم کیے جائیں اور بزرگوں کے لیے ایسے پروگرام ہوں جہاں وہ مل بیٹھ سکیں، بات چیت کر سکیں اور زندگی کی رونق کا احساس دوبارہ پا سکیں۔ مذہبی اور فلاحی اداروں کو بھی اس میدان میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔
پالیسی و حکومتی سطح: حکومت کا کام ہے کہ وہ سماجی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں معاون کردار ادا کرے۔ بزرگوں کے لیے معاشرتی تحفّظ کے نظام کو بہتر بنانا، گھر پر نگہداشت (Home Care) کی سہولتیں بڑھانا، ان کی تنہائی کم کرنے اور سماجی شمولیت بڑھانے کے پروگرام ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فرضی ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے بزرگوں کی خوشیاں اور دعائیں اصل کامیابی ہیں۔ اگر ہم انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور سرکاری سطح پر اپنا کردار پوری ذمّہ داری کے ساتھ ادا کریں تو تنہائی کے یہ سائے بہت حد تک چھٹ سکتے ہیں، اور معاشرے میں محبت، احساس اور قربت کا نور دوبارہ بکھر سکتا ہے۔ انسان صرف سانس لینے والا اجسام نہیں بلکہ جذبات، تعلقات اور معنی کا حامل وجود ہے۔ ترقی اگرچہ ضروری ہے مگر وہ مکمل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ انسانی قدروں، رشتوں کی نزاکت اور محبت کا معیار بھی برقرار رہے۔ اسلام نے صلۂ رحمی کی تاکید اس لیے کی کہ رشتوں میں زندگی ہے۔ یہی وہ زندگی ہے جو ہمیں معاشرتی بحرانوں سے بچا سکتی ہے اور انسانی بقاء کو معنوی گہرائی عطاء کرتی ہے۔
اسلام اسی لیے رشتوں کو جوڑنے کی سخت تاکید کرتا ہے، کیوں کہ رشتے صرف خون کا تعلق نہیں بلکہ زندگی کا سہارا، دل کا قرار اور ایمان کا حصّہ ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے: "اگر تم منہ موڑ لو گے تو کیا تم زمین میں فساد کرو گے اور اپنے رشتے ناتے کاٹ دو گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللّٰہ نے لعنت کی اور انہیں بہرا اور اندھا کر دیا” (سورۃ محمد: 22-23)۔ یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے: رشتے توڑنا صرف سماجی جرم نہیں بلکہ دینی سنگین گناہ ہے۔ جو لوگ والدین، بھائی بہنوں اور اہلِ قرابت کو بھلا بیٹھتے ہیں؛ وہ اپنے ایمان کی روشنی کو خود بجھا دیتے ہیں۔
آئیں! ذرا ٹھہر کر سوچیں… یہ وہی بزرگ ہیں جن کے کندھوں پر بیٹھ کر ہم نے دنیا کو پہلی بار دیکھا، جن کے ہونٹوں کی دعاؤں نے ہمارے راستوں کو اجالا دیا، جن کی راتوں کی جاگ اور دن کی مشقت نے ہمیں آج یہاں کھڑا کیا۔ کبھی یہی ہاتھ ہماری انگلی تھام کر ہمیں چلنا سکھاتے تھے، کبھی یہی قدم ہماری خاطر بھاگتے تھے، کبھی یہی دل ہماری ہر آہٹ پر دھڑک اٹھتا تھا۔ کیا بڑھاپے میں وہ محض ایک بوجھ، ایک ذمّہ داری، یا ایک رسمی فریضہ بن کر رہ جائیں؟ کیا ہم اپنے والدین اور بزرگوں کی آنکھوں میں پلتی امید کو بے توجہی کی مٹی سے ڈھانپ دیں؟ اللّٰہ نہ کرے کہ ہم بھی کہیں ان حسرت بھری نگاہوں کو زندگی ہی میں تنہائی کی قبر میں اتار دیں! اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماں باپ کی خدمت محض ایک معاشرتی اخلاق نہیں! یہ عبادت ہے، ریاضت ہے، قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
قرآن کہتا ہے: "ان کے سامنے عاجزی کے ساتھ رحمت کے بازو جھکا دو اور کہو: اے میرے ربّ! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا” (سورۃ الاسراء: 24)۔ اور رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "اللّٰہ کی رضا والد کے راضی ہونے میں ہے اور اللّٰہ کی ناراضی والد کے ناراض ہونے میں ہے” (ترمذی)۔ یہ تعلیمات بتاتی ہیں کہ والدین کی خدمت
جنّت کا دروازہ ہے، رضائے الٰہی کا راستہ ہے،
اور محبت کے رشتوں میں پنہاں اللّٰہ کی رحمت کا خاص ظہور ہے۔
یہ رشتے تو عطائے ربِّ اکبر ہیں
انہیں توڑا نہیں کرتے، یہ زیور ہیں
ہمیں چاہیے کہ بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے ماں باپ کے دلوں میں محبت کے چراغ روشن رکھیں، ان کی تنہائی کو گفتگو کی حرارت دیں، ان کے کمزور قدموں کے لیے سہارا بنیں،
اور وہ مسکراہٹ واپس لائیں جو کبھی ہماری خاطر چہروں پر کھنک اٹھتی تھی۔ رشتوں کو نبھانا عبادت ہے، ان کی قدر کرنا محبت ہے، اور ان کا احترام کامیابی ہے۔ جو لوگ والدین کو خوش رکھ کر سوتے ہیں
وہ حقیقت میں فرشتوں کی دعاؤں کے سائے تلے زندگی گزارتے ہیں۔ آئیں! اپنے والدین اور بزرگوں کا ہاتھ تھام لیں اس سے پہلے کہ وقت ان ہاتھوں کو ہم سے چھین لے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں رشتوں کی عظمت، ان کی حفاظت، ان سے وفاداری اور خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
🗓 (07.12.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




