مہاراشٹرا

اَکلّکوہ کے مدرسہ پر بے بنیاد الزامات کے خلاف جلگاؤں میں زبردست احتجاجی مظاہرہ”.

“کیرٹ سومیّیا کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کا پرزور مطالبہ”.

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جلگاؤں ضلع ایکتا سنگٹھن کی جانب سے 8 دسمبر کو دوپہر 3 سے 4 بجے تک ضلع کلکٹر آفس کے باہر ایک گھنٹے کا پُرامن مگر انتہائی پُرجوش احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ یہ مظاہرہ اکلکوہ (ضلع نندوربار، مہاراشٹر) کے مدارس اور اقلیتی تعلیمی اداروں پر عائد کیے گئے بھڑکاؤ اور من گھڑت الزامات کے خلاف مؤثر آواز اٹھانے کے لیے کیا گیا۔یہ الزامات سابق رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی رہنما کیرٹ سومیّیا نے 26 نومبر 2025 کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جامعہ ملیہ اشاعت العلوم اکلکوہ اور اس کی شاخوں پر لگائے تھے۔ مقامی و سماجی نمائندوں نے ان

الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن، بے بنیاد اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی کوشش قرار دیا۔احتجاجی وفد نے ضلع کلکٹر راہول گھوگے کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند، حکومتِ ہند، وزیرِ اعلیٰ مہاراشٹر اور متعلقہ حکام کو ایک مفصل محضر پیش کی جس میں درج ذیل بنیادی مطالبات شامل تھے:اہم مطالبات 1. کیرٹ سومیا کے لگائے گئے الزامات کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔2. اگر تحقیقات میں الزامات بے بنیاد ثابت ہوں تو ان پر
– آئی ٹی ایکٹ


– بھارتیہ تعزیری قانون (IPC) کے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، کیوں کہ ان کے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا واضح امکان ہے۔3. حکومت فوری طور پر ایک سرکاری اور حقائق پر مبنی بیان جاری کرے تاکہ معتبر تعلیمی اداروں کی ساکھ محفوظ رہے اور جھوٹی خبروں، پروپیگنڈے اور نفرت انگیز مہمات پر روک لگ سکے۔اکلکوہ کے مدارس خدمت، شفافیت اور امانت کا درخشاں مرکز

محضر میں واضح طور پر بتایا گیا کہ:اکلکوہ کے مدارس کئی دہائیوں سے ہزاروں غریب، یتیم اور بے سہارا بچوں کو مفت تعلیم، رہائش اور خوراک فراہم کر رہے ہیں۔ تمام ادارے سرکاری اصولوں، قانونی اجازت ناموں اور باقاعدہ آڈٹ کے تحت شفاف طریقے سے کام کر رہے ہیں۔آج تک کسی بھی تحقیق میں ایک بھی غیر قانونی سرگرمی ثابت نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود ان اداروں کے خلاف ایک سوچی سمجھی کردار مہم چلائی جا رہی ہے، جسے عوام نے پوری شدت کے ساتھ مسترد کیا”۔ سماجی رہنما اور تنظیم کے کنوینر فاروق شیخ نے کہا “مدارس اور تعلیمی مراکز پر بے بنیاد حملے کسی بھی طور قبول نہیں کیے جائیں گے۔


نفرت نہیں اتحاد، امن اور بھائی چارہ ہی ملک کی اصل طاقت ہے۔ عوام افواہوں سے ہوشیار رہیں اور حقیقت کا ساتھ دیں۔”مفتی خالد صاحب اور مولانا قاسم ندوِی نے مدارس کے تعلیمی، مذہبی، سماجی اور فلاحی کارناموں کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کیرٹ سومیا کے تمام دعوے من گھڑت، نامعقول اور حقیقت سے یکسر منافی ہیں احتجاجی اجتماع میں جن شخصیات نے شرکت کی، ان میں شامل رہیں:
ایڈووکیٹ اویس شیخ, ایڈووکیٹ امیر شیخ، متین پٹیل،انور صیقلگر, مظہر پٹھان،مولانا قاسم ندوِی،مولانا غفران شیخ
مولانا عبدالمجید عبد الحمید ،مولانا محمد اسحاق ، سید چاند سید امیر ،سعید شیخ ،جاوید شیخ، عبدالرؤف عبد الرحیم،رزاق پٹیل،سلیم انعام دار، محمد شمس الدین پنچاری،ان کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران و کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔اس محضر کی نقول قومی
اقلیتی کمیشن (نئی دہلی) مہاراشٹر اسٹیٹ اقلیتی کمیشن (ممبئی)، قومی و ریاستی انسانی حقوق کمیشن (دہلی و ممبئی) کو بھی ارسال کی گئیں۔

 

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!