سگریٹ نوشی انسانیت کا خود ساختہ عذاب

مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
اللّٰہ ربّ العالمین! نے انسان کو اپنی سب سے حسین مخلوق بنا کر زمین پر عزّت و تکریم کے ساتھ بھیجا۔ اس کے وجود کو ایک امانت قرار دیا، اور شریعتِ مطہرہ نے اس امانت کے تحفظ کو فرض ٹھہرایا۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اپنے آپ کو تباہی میں مت ڈالو۔ (البقرۃ: 195)۔ اور ایک اور مقام پر فرمایا: اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بلا شبہ اللّٰہ تم پر بہت مہربان ہے۔ (النساء: 29)۔ یہی وہ اصول ہے جو واضح کرتا ہے کہ اسلام انسانی جان کے ہر اس ضرر سے منع کرتا ہے جو اسے ہلاکت کی طرف لے جائے۔ خواہ وہ ظاہری تلوار ہو یا چپکے سے جسم میں سرایت کرتا ہوا دھواں!
نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”لا ضرر و لا ضرار”۔ نہ خود نقصان پہنچاؤ، نہ دوسروں کو نقصان دو۔ (سنن ابن ماجہ)۔ سگریٹ نوشی صرف اپنے آپ کو ہی نہیں بلکہ اپنے آس پاس کے ہر شخص کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ نہ صرف اپنے نفس کے خلاف زیادتی ہے بلکہ دوسروں کے حقوق پر بھی حملہ ہے۔ یہ فضول خرچی بھی ہے، نشے کی لت بھی، خودکشی کی ایک خاموش صورت بھی، اور حرمتِ جان کی کھلی خلاف ورزی بھی۔ اسلام نے ہمیں طہارت، صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ سگریٹ نوشی ان سب احکامات کی کھلی نافرمانی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا: فضول خرچی نہ کرو، اللّٰہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الاعراف: 31)۔ وہ مال جو اللّٰہ کی عطاء ہے جب وہ دھوئیں میں جل کر راکھ بن جائے تو انسان صرف اپنی جیب نہیں، اپنی زندگی بھی جلاتا ہے۔ یہ حقیقت نہایت تکلیف دہ ہے کہ آج سگریٹ نوشی ”نشہ” نہیں رہی… ایک منظم سرمایہ دارانہ غلامی بن چکی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دھواں اڑا رہا ہے حالانکہ دھواں… اس کی زندگی اڑا رہا ہے۔ اس تمہید کا مقصد خوف دلانا نہیں بلکہ زندگی کی قدر جگانا ہے۔ وہ زندگی جو ربّ نے عطاء کی ہے اور جس کے تحفّظ کا حکم اسی نے دیا ہے۔ آئیے! اس دھوئیں کے دھوکے سے نکلیے اور صحت، ایمان اور فہم کے روشن راستے پر واپس آئیے کیونکہ زندگی اللّٰہ کی نعمت ہے، اور اس کا خیال رکھنا عبادت ہے۔

سگریٹ نوشی کی تاریخ — ایک تہذیبی و تجارتی ارتقاء
انسان اور دھوئیں کا تعلق بہت قدیم ہے۔ جب انسان نے چقماق پتھروں سے آگ روشن کرنے کا ہنر سیکھا تو آگ کے شعلوں کے ساتھ اٹھتے دھوئیں کو اُس نے ایک پراسرار اور روحانی شے سمجھا۔ دھواں آسمان کی جانب بلند ہوتا دکھائی دیتا تھا، اس لئے اسے الٰہی دنیا تک رسائی کا وسیلہ تصور کیا جاتا۔ یہی سوچ آگے چل کر تمباکو نوشی کی بنیاد بنی۔ انسانی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں تمباکو کوئی معمولی پودا نہیں تھا بلکہ ایک مقدّس شے کی حیثیت رکھتا تھا۔ تقریباً پانچ ہزار برس قبل امریکہ کے مقامی قبائل—مایا، ایزٹک اور انکان—تمباکو کے پتے جلا کر اُٹھتے دھوئیں کو سانس میں کھینچتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ دھواں جسمانی زندگی سے کہیں بڑھ کر، روحانی کائنات تک رسائی کا وسیلہ تھا۔
وہ اس کو روحانی صفائی یعنی باطنی آلودگیوں اور بری روحوں کے اثرات سے نجات، شفاء و علاج جسمانی بیماریوں کے خاتمے اور قوتِ مدافعت کے لیے دوا، نذر و نیاز معبودوں کو راضی کرنے اور قبائلی رسومات کی تکمیل، روحانی رابطہ اس دنیا اور غیبی طاقتوں کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ دھواں جب فضاء میں بلند ہوتا ہے تو وہ انسان کی دعائیں، خواہشیں اور خوف اپنے ساتھ آسمانوں کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں تمباکو ان تہذیبوں میں صرف ایک پودا نہیں تھا بلکہ مذہبی تقدیس اور روحانی تجربے کا حامل ایک مقدّس عنصر تھا۔ جو انسان اور مابعد الطبیعیاتی قوتوں کے درمیان ایک زندہ رابطہ سمجھا جاتا تھا۔
1492ء میں کرسٹوفر کولمبس جب اپنے ملاحوں کے ساتھ نئی دنیا پہنچا، تو مقامی باشندوں نے انہیں تمباکو سے شناسا کرایا۔ یہ ایک نئی، انوکھی اور نشہ آور شے تھی۔ لہٰذا یورپ جاتے ہی اشرافیہ اور فوجی طبقہ اس کا دلدادہ ہو گئے۔ اسپین اور پرتگال سے تمباکو بحری جہازوں میں عالمی منڈیوں تک پھیلا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ شوق، پھر عادت اور آخرکار منفعت بخش کاروبار بن گیا۔ اٹھارویں صدی کے صنعتی انقلاب نے اسے ایک باقاعدہ صنعت بنا دیا۔ تمباکو خشک کرکے، باریک کاٹ کر پائپ اور چرس (cigars) کی شکل میں بیچا جانے لگا۔ مگر اصل تباہ کن مرحلہ 1880ء میں آیا، جب جیمز بونسا کنگ نے سگریٹ بنانے کی مشین ایجاد کی جو ایک منٹ میں ہزاروں سگریٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ تمباکو ایک مذہبی پودے سے بدل کر کاروباری شیطان بن چکا تھا۔
بڑی کمپنیاں اشتہارات کے ذریعے سگریٹ کو فیشن اور آزادی کی علامت بنا گئیں۔ کھیل اور فلمی دنیا میں سرمایہ لگا کر ہیروز کے ہاتھ میں سگریٹ تھما دیا گیا۔ نکوٹین کی لت کو چھپا کر منافع کی ہوس بڑھائی گئی۔ یوں سگریٹ نوشی صرف عادت نہیں رہی؛ ایک عالمی وباء میں تبدیل ہو گئی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو صنعت سالانہ 80؍ لاکھ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ مگر اس تجارت کا حجم پھر بھی کھربوں ڈالر ہے۔ جو معاشی طور پر کمزور قوموں کو نشانے پر رکھتی ہے۔ سگریٹ نوشی کی تاریخ دراصل انسانی جہالت، تجارتی لالچ اور نفسیاتی کمزوری کی کہانی ہے۔ روحانیت کے نام پر شروع ہونے والا سفر صحت اور زندگی کے خلاف اندھے کاروباری جنگ میں بدل چکا ہے۔ دھوئیں کو طاقت سمجھنے والا انسان آج اسی دھوئیں کا غلام بن چکا ہے!

انسان کیوں سگریٹ نوشی میں مبتلا ہوتا ہے؟
انسان کے اندر نئے تجربات کرنے اور اپنے احساسات میں تبدیلی لانے کی ایک فطری خواہش ہمیشہ موجود رہی ہے۔ مگر سگریٹ نوشی کے پسِ منظر میں صرف تجسس ہی نہیں، بلکہ ایک پوری نفسیاتی، سماجی اور تجارتی سازش کار فرما ہے۔ اس عادت کی جڑیں انسانی کمزوریوں اور شیطانی سرمایہ دارانہ حربوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے نفسیاتی دباؤ انسان کو اس طرف دھکیلتا ہے۔ جب ذہنی تناؤ، محرومی یا تنہائی انسان کے احساسات پر قبضہ کر لیتی ہے تو وہ سگریٹ کے دھوئیں میں ایک خیالی سکون تلاش کرتا ہے… جو حقیقت میں مزید بے چینی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ پھر آتی ہے سماجی اثر پذیری۔ دوستوں کی صحبت اور فلموں کے ”ہیروز” ان ہاتھوں میں سگریٹ تھماتے ہیں جنہیں زندگی نے ابھی آغاز ہی دیا ہوتا ہے۔ ایک اداکار کا دھواں اڑاتا انداز اکثر نوجوان کے دل میں یہ خیال بٹھا دیتا ہے کہ شاید ”کول” نظر آنے کے لیے دھواں ہی ضروری ہے۔
اسی کے ساتھ ایک اور دھوکا!! شناخت اور آزادی کا وہم۔ نوجوان سمجھتے ہیں کہ سگریٹ ان کی شخصیت میں کوئی بھرپور تبدیلی لے آئے گی… جیسے دھواں اڑا کر وہ اپنے وجود کی من مانی طاقت کا اعلان کر رہے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان تمام ظاہری محرکات سے بڑھ کر، انسان کو غلام بنانے والی اصل طاقت ہے: نیکوٹین کا کیمیائی جادو۔ یہ جسم اور ذہن میں ایسی انحصاری کیفیت پیدا کرتا ہے کہ پھر انسان سگریٹ نہیں پیتا… سگریٹ انسان کو پینے لگ جاتی ہے۔ اور یہ سب کچھ یونہی نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے مارکیٹنگ کا ایک منظم اور شیطانی کھیل ہے جو آزادی، اعتماد اور خوشی کے نام پر ذہنوں کو غلام بناتا ہے۔ موت کا دھواں بیچا جاتا ہے… اور خواہشِ زندگی رکھنے والا انسان اسے خریدتا ہے۔ آخرکار نتیجہ یہ انسان سمجھتا ہے کہ وہ عادت کو قابو میں رکھے ہوئے ہے… لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیکوٹین اسے اپنے شکنجے میں جکڑ کر پینے پر مجبور کرتی ہے!
سگریٹ نوشی کے مضر نقصانات — زندگی کا خاتمہ دھوئیں کے ذریعے
سگریٹ نوشی بظاہر محض ایک عادت نظر آتی ہے، مگر اس کے دھوئیں میں چھپی ہوئی ہولناک حقیقت انسان کے بدن کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ تمباکو میں 4,000؍ سے زائد زہریلے کیمیکلز پائے جاتے ہیں جن میں سے 70؍ سے زیادہ ایسے عناصر ہیں جو سرطان یعنی کینسر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طبی تحقیقات متفق ہیں کہ سگریٹ نوشی ایک خاموش مگر یقینی قاتل ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر ہو یا منہ، حلق، معدہ، مثانے اور لبلبے کے مہلک امراض ان سب کے پیچھے سب سے مضبوط اور عام ترین وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ ہر کش کے ساتھ، جسم کے خلیات ایسی تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں جو بالآخر سرطان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
دل انسان کے وجود کا مرکز ہے، مگر سگریٹ نوشی اس مرکز پر براہِ راست وار کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں پائی جانے والی کاربن مونو آکسائیڈ خون کے اندر موجود آکسیجن کی جگہ لے لیتی ہے، نتیجتاً دل اور دماغ دونوں کو آکسیجن کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب نکوٹین خون کی شریانوں کو تنگ کر کے ان میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر غیر معمولی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ دباؤ رفتہ رفتہ دل کی دھڑکن بے ترتیب کرتا ہے، خون کے لوتھڑے (clots) بنانے لگتا ہے اور بالآخر ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یوں سگریٹ نوشی ایک آہستہ چلتا ہوا ہتھیار ہے، جو خون کی شفاف ندیوں کو تاریک اور تنگ راستوں میں بدل دیتا ہے۔ کچھ لمحوں کی لذت کے بدلے میں انسان دل کی دھڑکنوں کا سودا کر بیٹھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ کا دھواں زندگی کی شریانوں کو موت کی طرف لے جانے والا بہیمانہ دھواں ہے۔
سگریٹ نوشی کا زہر صرف پھیپھڑوں اور دل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ انسان کی نسل پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔ نکوٹین اور دیگر کیمیکلز جسم کے ہارمونل نظام پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تولیدی صحت تباہ ہونے لگتی ہے۔ سب سے پہلے مردانہ قوت متاثر ہوتی ہے۔ خون کی نالیوں میں رکاوٹ اور ہارمونز میں بگاڑ کے باعث مردانہ کمزوری جنم لیتی ہے، اعتماد ٹوٹتا ہے اور ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بانجھ پن کا خطرہ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں موجود زہریلے اجزاء منی کے خلیوں کی تعداد، حرکت اور معیار کو کم کر دیتے ہیں، جس سے اولاد کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔
عورتوں میں یہ زہر اور بھی سفاک ثابت ہوتا ہے۔ حاملہ خواتین میں بچّے کی بڑھوتری رُک جاتی ہے۔ پیدائش کے وقت وزن کم ہوتا ہے۔ وقت سے پہلے دردِ زہ شروع ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مُردہ بچّے کی پیدائش تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ سگریٹ نوشی سے جینیاتی خلیوں میں ایسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں جو آنے والی نسل کو پیدائشی نقائص میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یعنی نقصان صرف ایک لمحے یا ایک زندگی کا نہیں بلکہ نسلوں تک منتقل ہونے والی تباہی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی صرف ایک انسان کو نہیں، اس کی آنے والی نسلوں کو بھی سزا دیتی ہے۔
سگریٹ نوشی صرف پھیپھڑوں ہی کی دشمن نہیں، بلکہ یہ انسان کے پورے جسم کو زہر آلود کر کے حواس اور نظامِ حیات کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔ دھوئیں میں شامل کیمیکلز جب خون میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ایک خاموش تباہی کا آغاز کرتے ہیں۔ سب سے پہلے سانس کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں۔ مسلسل کھانسی، دمہ، سانس پھولنا اور دائمی پھیپھڑوں کی بیماریاں دھیرے دھیرے انسان کو روزمرّہ زندگی کے کاموں سے بھی بے بس بنا دیتی ہیں۔ اسی کے ساتھ منہ اور دانت براہِ راست زہر کے نشانے پر ہوتے ہیں۔ مسوڑھوں کی سوجن، دانتوں کا تیزی سے سڑ جانا، اور سانس کی بدبو اسے نہ صرف بیمار بلکہ دوسروں کے لیے بھی ناگوار بنا دیتی ہے۔ پھر آکسیجن کی کمی… نکوٹین خون کی نالیوں کو تنگ کر دیتی ہے، نتیجتاً آنکھوں اور دماغ تک مطلوبہ آکسیجن نہیں پہنچ پاتی، جس سے نظر کی کمزوری، یادداشت میں کمی، اعصابی کمزوری جنم لیتی ہے۔
یہ تباہی یہاں بھی نہیں رکتی۔ خلیوں کی قبل از وقت موت کے باعث جلد کی لچک ختم ہو جاتی ہے، چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں، اور انسان عمر سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگتا ہے۔ وہی چمکدار چہرہ جس پر نوجوانی کا فخر ہوتا ہے، چند برسوں میں مرجھا جاتا ہے۔ آخرکار حقیقت یہ ہے، جو لوگ سگریٹ کو جوانی اور شخصیت کی علامت سمجھتے ہیں، وہ دراصل اپنی جوانی کا قتل کر رہے ہوتے ہیں۔ طبی اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہتے ہیں صرف ایک سگریٹ انسان کی زندگی کے تقریباً 11؍ منٹ کم کر دیتی ہے۔ ذرا سوچئے…! جو انسان دن میں ایک پیکٹ پیتا ہے وہ روزانہ اپنی تقریباً چار گھنٹے کی زندگی کو راکھ بنا رہا ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی وہ مکاری ہے جو ابتداء میں دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے اور آخر میں موت کی گرفت میں لے لیتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ دھواں اُڑا رہا ہے، حالانکہ دھواں، اس کی زندگی اُڑا رہا ہوتا ہے۔
انسانی صحت پر سگریٹ نوشی کے خوفناک اثرات
طبی زبان چھوڑ کر اگر انسانی انداز میں بات کریں تو سگریٹ پینے والا اپنے جسم کو آہستہ آہستہ… ایک تندور، اور پھیپھڑوں کو… دھوئیں سے بھرے کوئلے میں تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔ ہر کش کے ساتھ آکسیجن کی جگہ کاربن مونو آکسائیڈ خون میں رچ بس جاتی ہے۔ دل کو اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ دماغ کو آہستہ آہستہ نقصان پہنچتا ہے۔ قوتِ مدافعت تباہ، بیماریوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اور وہ لمحہ بھی آ سکتا ہے جب سانس ہی زندگی کو چھوڑ دے!
کاروباری ریکیٹ
تمباکو صنعت کے اندر سالہا سال اس حقیقت کو چھپایا گیا کہ سگریٹ نوشی صرف ایک عادت نہیں بلکہ جان لیوا بیماریوں اور موت کا دروازہ ہے۔ جب سائنسی تحقیق نے سگریٹ نوشی اور کینسر، دل کی بیماریاں، سانس کی بیماریاں اور قبل از وقت اموات کے تعلق کو واضح کیا، تو کمپنیاں دعویٰ کرتی رہیں کہ ”ثابت شدہ شواہد نہیں” یا موقتی نتائج کو مبہم پیش کرتی رہیں۔ اس طریقے سے وہ اپنی تجارت کو بلا اعتراض جاری رکھ سکیں۔ تمباکو کمپنیاں جانتی ہیں کہ براہِ راست سچ بتانا ان کے منافع کو ختم کر سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اشتہارات اور پیکیجنگ کے ذریعے سگریٹ کو ”فیشن”، ”آزادی”، ”جدت” اور حتیٰ کہ ”مذہبی شناخت” کا حصّہ بنا دیا۔
مثال کے طور پر، ماضی میں ایک اشتہار مہم، جسے A Frank Statement to Cigarette Smokers کہا جاتا ہے، ہزاروں اخبارات میں شائع ہوئی، اور اس کا مقصد عوام میں شک و شبہ پیدا کرنا تھا تاکہ سگریٹ کے مضر اثرات کو ثابت کرنا مشکل ہو جائے۔ اس طرح سگریٹ نوشی کو ایک ”ذاتی انتخاب” اور ”زندگی کا اسٹائل” بنا دیا گیا، تاکہ لوگ اس کو کوئی بری چیز نہ بلکہ اپنی شناخت کا حصہ سمجھیں۔ تمباکو کمپنیوں نے فلم، ڈراما، اشتہار اور پبلک ایونٹس کے ذریعے سگریٹ کو ”ہیرو” اور ”بولڈ” شخصیت کا لازمی حصّہ بنایا۔ یوں نوجوان اور عام لوگ اس عادت کو غلامی سمجھنے کے بجائے ایک شاندار انتخاب سمجھنے لگے۔ اس حکمتِ عملی نے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں کام کیا جہاں ضابطے اور آگاہی کم تھی، اور لوگ بڑے آسانی سے اس تاثر میں آ گئے کہ سگریٹ پینا ایک ”عالمی فیشن” ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ تمباکو نوشی ایک عالمی وباء بن چکی ہے۔ WHO کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق، ہر سال تقریباً 8؍ ملین لوگ تمباکو یا سگریٹ نوشی کی وجہ سے اپنی زندگی کھو دیتے ہیں۔ جن میں سے 7؍ ملین براہِ راست استعمال کی وجہ سے اور تقریباً 1.2؍ ملین لوگ دوسرے ہاتھ کے دھوئیں (second-hand smoke) کی زد میں آکر۔ صرف صحت نہیں، بلکہ معاشرتی اور اقتصادی نقصان بھی بہت بڑا ہے۔ طبی اخراجات، پیداوری کی کمی، یومیہ بیماری، اور قبل از وقت موت۔ سب مل کر ایک ”انفارمیشن کے بغیر قتل” بن جاتے ہیں۔
تمباکو کمپنیاں نہ صرف گھپلے اور پوشیدہ حقائق پر انحصار کرتی ہیں بلکہ خوبصورت اشتہارات، فلموں، سماجی ترویج اور نفسیاتی حربوں سے عوام کو سگریٹ نوشی کی طرف راغب کرتی ہیں۔ اور نتیجتاً، ہر سال لاکھوں انسان؛ اپنی جان، صحت، اور نسلوں کی خوشحالی؛ اس دھوئیں کی قیمت چکا رہے ہیں۔ ان کی یہ صنعت صرف منافع کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا گلوبل ریکیٹ ہے جو زندگی پر سودا بیچ رہا ہے۔ اور وہ لوگ جو اس دھوئیں کو ”آزادی” یا ”شناخت” سمجھ کر اپناتے ہیں، نہ جانے کہ حقیقت میں اپنی زندگی اور اپنی آنے والی نسلوں کو موت کی زنجیروں سے باندھ رہے ہیں۔
معاشرے کو تمباکو کی وبا سے کیسے بچایا جائے؟
یہ جنگ صرف حکومت کی نہیں… زندگی کے تحفّظ کی یہ لڑائی ہم سب کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔
حکومتی سطح پر!!
ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی رعایا کے جسم و جان کی حفاظت کرے۔ لہٰذا ٹیکس اور قیمتوں میں اضافہ، تاکہ سگریٹ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو اور نئی نسل اس کی طرف مائل نہ ہو۔ اشتہارات اور فلمی ترویج پر سخت پابندی، ہیروز کے ہاتھ میں سگریٹ، دراصل مجرموں کے ہاتھ میں ہتھیار ہے، یہ معصوم ذہنوں کو گمراہ کرتا ہے۔ پبلک مقامات پر مکمل پابندی اور جرمانہ، تاکہ دوسروں کی صحت دوسروں کی غلطی کی نذر نہ ہو۔ اسکول و کالجز میں آگاہی پروگرام، نوجوان ذہنوں میں علم کی روشنی جتنی زیادہ ہوگی، دھوئیں کا دھوکہ اتنا ہی کم ہو جائے گا۔ نشہ چھڑانے کے مراکز اور سہولیات میں اضافہ تاکہ جو لوگ نشے کے قیدی بن چکے ہیں، انہیں رہائی کا راستہ ملے۔ ریاستی نظام اگر مضبوط ہو تو شیطانی تجارت کی بنیادیں خود بخود کمزور پڑنے لگتی ہیں۔
سماجی سطح پر!!!
معاشرہ صرف عمارتوں اور سڑکوں کا نام نہیں، لوگوں کے رویوں اور قدروں کا نام ہے۔ اس لیے والدین کی نگرانی، محبت اور دوستانہ رہنمائی بچّوں کی پہلی درسگاہ گھر ہے… اگر وہاں سچ بولنے والا چراغ ہو، تو باہر کا اندھیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مذہبی و اخلاقی تعلیم کے ذریعے خود آگہی، جب انسان اپنے خالق کی عطاء کردہ زندگی کی قدر سمجھے گا تو اسے ضائع کرنے سے بچّے گا۔ صحت مند مشاغل اور مثبت مصروفیات کی ترویج، سگریٹ ہاتھ میں اس وقت آتا ہے جب ہاتھ خالی ہوں اور ذہن بے مقصد۔ میڈیا کی اصلاح، سگریٹ کو ”طاقت اور اسٹائل” کا نشان دکھانا حقیقت میں موت کو دلکش لباس پہنانا ہے، اس درندگی کو روکنا ہوگا۔
فرد کی سطح پر!!!!
ہر انسان اپنے آپ میں ایک دنیا ہے۔ اگر وہ بدل جائے تو پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ ارادے کی مضبوطی، اصلاح کی پہلی اینٹ نیت کی ہوتی ہے۔ نیکوٹین کے علاج اور مشاورت سے مدد، اعترافِ کمزوری کمزوری نہیں، شفاء کا آغاز ہے۔ خود کو عذاب سے آزادی کا فیصلہ، ہر سگریٹ دراصل زندگی کے چراغ پر ایک ضرب ہے۔ اسے بجھنے نہ دیجئے یہ چراغ اللّٰہ کی امانت ہے۔ سگریٹ نوشی کوئی عادت نہیں… آہستہ آہستہ خودکشی ہے۔ انسان کی جان نہ اس کی اپنی ملکیت ہے… نہ کسی کمپنی کے منافع کی قیمت۔ جان تو اللّٰہ کی عطاء ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہماری ذمّہ داری۔ آئیں! اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کا عہد کریں۔ سگریٹ نہیں… سانس سے دوستی کریں، زندگی سے وفا کریں۔
انسانی جان ایک امانت ہے… جو اللّٰہ نے عطاء فرمائی ہے۔ یہ ہماری ملکیت نہیں کہ اسے جس طرح چاہیں ضائع کر دیں۔ بدن کا ہر عضو، ہر سانس، ہر دھڑکن… ہمارے حساب میں لکھی جا رہی ہے۔ قیامت کے دن یہ سب گواہ ہوں گے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ سگریٹ کا ہر کش دراصل اس نعمتِ خداوندی کی بربادی ہے جو ہمیں بغیر مانگے عطاء ہوئی۔ قرآن کہتا ہے: ”اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو” اور یہ ہلاکت صرف جسم کی نہیں، روح کی بھی ہے! نبی کریمﷺ نے انسانی جان کی حرمت کو اتنی بلند کیا کہ فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے خونِ ناحق کا حساب لیا جائے گا” تو بتائیے! جو شخص خود اپنا ہی خون جلاتا چلے… اُس کا حساب کیا ہوگا؟
سگریٹ نوشی وہ دشمن ہے جو انسان کی جیب، صحت، ایمان، اور خاندان سب پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ خودکشی ہے… مگر آہستہ آہستہ! یہ ظلم ہے… خود پر بھی اور اُن پر بھی جو ہمارے قریب سانس لے رہے ہیں۔ آج اگر آپ نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آپ اپنی زندگی کی حفاظت کریں گے تو جان لیجئے: آپ صرف اپنے آپ کو نہیں بچا رہے… آپ اپنے گھروں، اپنی نسلوں، اپنی اُمّت کو بچا رہے ہیں۔ آئیے! اس دھوئیں کی غلامی سے توبہ کریں اور اس زندگی کی حفاظت کا عہد کریں جس کے متعلق ہم سے سوال ہوگا۔ اے اللّٰہ! ہمیں بدن کی اس امانت کی حفاظت کی توفیق عطاء فرما، اور ہمیں ہر اس راستے سے بچا جس میں جان کی حرمت پامال ہوتی ہو۔ آمین یا ربّ العالمین۔
سگریٹ نہیں… زندگی چنئے! کیونکہ زندگی… اللّٰہ کی سب سے حسین نعمت ہے۔
masood.media4040@gmail.com




