جرائم

پیسوں کے تنازع پر تلنگانہ کی خاتون کا قتل

لاش کو کنوٹ تعلقہ کے سارکھنی گھاٹ میں پھینکنے کا اعتراف؛ دو ملزمان گرفتار

کنوٹ (نمائندہ): مکر سنکرانتی کے دن کنوٹ تعلقہ کے سارکھنی گھاٹ علاقے میں ملنے والی نامعلوم خاتون کی لاش کے معاملے کا آخرکار انکشاف ہو گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ تلنگانہ ریاست کے ضلع عادل آباد کی رہنے والی تھی۔ پیسوں کے تنازع میں اس کا قتل کر کے لاش کو مہاراشٹر کے کنوٹ تعلقہ میں لا کر پھینکنے کا اعتراف دو ملزمان نے کیا ہے، جنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

14 جنوری کو سندکھیڑ پولیس تھانے کی حدود میں واقع موضع سارکھنی گھاٹ کے قریب قومی شاہراہ کے ساتھ جنگل میں ایک نوجوان خاتون کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ جائے واردات کے حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ خاتون کا قتل کر کے لاش یہاں پھینکی گئی ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ لاش تلنگانہ کے ضلع عادل آباد کے پِتّل واڑا کی رہنے والی عمرانٰہ جبین (عمر 38 سال) کی ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق عمرانٰہ جبین گزشتہ دو ماہ سے اپنی بہن سمینہ یاسمین کے پاس داسناپور (ضلع عادل آباد) میں مقیم تھی۔ تقریباً ایک سال قبل اس نے اندرویلی کے رہنے والے محمد فاروق خان کو اپنے نام پر لگ بھگ پانچ لاکھ روپے اور سونے کے زیورات رہن رکھ کر مزید چار لاکھ روپے دیے تھے۔ اسی دوران عمرانٰہ کی شادی طے ہونے کے باعث اس نے اپنی رقم واپس مانگی، مگر فاروق خان ٹال مٹول کرتا رہا۔ 25 نومبر 2025 کو فون پر رقم کا تقاضا کرنے پر فاروق خان نے صاف انکار کر دیا، جس کے باعث عمرانٰہ ذہنی طور پر پریشان ہو گئی۔

26 نومبر 2025 کی شام سے عمرانٰہ کا موبائل فون بند ہو گیا اور جس مکان میں وہ رہتی تھی وہ تالا بند حالت میں پایا گیا۔ تاہم اس کی ایکٹیوا اسکوٹی گھر کے سامنے ہی کھڑی ہونے کی وجہ سے شبہ مزید گہرا ہو گیا۔ آخرکار ماوالا پولیس تھانے میں اس کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کروائی گئی۔

لاپتہ کیس کی تفتیش جاری تھی کہ 14 جنوری 2026 کو ماوالا پولیس نے محمد فاروق خان اور رمیش کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ تفتیش کے دوران انہوں نے اعتراف کیا کہ 26 نومبر 2025 کی رات وہ دونوں دو پہیہ گاڑی پر پِتّل واڑا گئے تھے۔ پیسوں کے معاملے پر عمرانٰہ اور فاروق کے درمیان جھگڑا ہوا اور اسی جھگڑے کے دوران عمرانٰہ کا قتل کر دیا گیا۔

قتل کے بعد فاروق خان نے ایک کار کرائے پر لے کر عمرانٰہ کی لاش کو عادل آباد سے اچوڑا–سونالا راستے کنوٹ لایا اور بعد میں سارکھنی گھاٹ کے جنگلاتی علاقے میں سڑک کے کنارے پتھروں اور مٹی سے ڈھانپ کر لاش پھینک دی، یہ معلومات ملزمان نے دی ہیں۔

14 جنوری کو لاش ملنے کے بعد تلنگانہ کے ماوالا پولیس، سندکھیڑ پولیس، تحصیلدار اور پنچوں کی موجودگی میں جائے واردات کا پنچنامہ کیا گیا۔ ساتھ ہی رِمز اسپتال، عادل آباد کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے موقع پر ہی پوسٹ مارٹم کر کے تمام قانونی کارروائی مکمل کی۔

چونکہ لاش سندکھیڑ پولیس تھانے کی حدود میں ملی تھی، اس لیے اس معاملے کی مکمل تفصیلات ماوالا پولیس تھانے کی جانب سے باضابطہ خط کے ذریعے سندکھیڑ پولیس کو فراہم کی گئی ہیں۔ اس کیس میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت جرم درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے، پولیس نے بتایا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!