ناندیڑ میں قربانی کے معاملے پر کل جماعتی اجلاس، حکومتی ضوابط کی پابندی کا عزم

ناندیڑ: آج رائل گارڈن میں کل جماعتی تحریک ناندیڑ کے زیر اہتمام قربانی کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں شہر کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں سیاسی و سماجی شخصیات، ملی قائدین، علما کرام، وکلا، قریشی برادری کے ذمہ داران اور دیگر نمائندگان شریک رہے۔
اجلاس کے دوران شرکا کی آرا و تجاویز کو تفصیل کے ساتھ سنا گیا، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے جن جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد ہے، ان کی قربانی نہیں کی جائے گی، جبکہ صرف انہی جانوروں کی قربانی کی جائے گی جن کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ضمن میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔
مزید برآں، علما کرام، وکلا اور میونسپل کارپوریٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ کمیٹی اعلیٰ حکام بشمول آئی جی، ایس پی اور ضلع کلکٹر سے ملاقات کرکے گؤ رکشکوں کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے معاملات پر مؤثر نمائندگی کرے گی اور مسائل کے حل کے لیے تفصیلی بات چیت کرے گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگر کسی ممنوعہ جانور کی خرید و فروخت میں ملوث افراد پائے جائیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ اسی طرح غیر ممنوعہ جانوروں کی نقل و حمل میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف بھی قانونی اقدامات کیے جائیں۔
تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علما کرام اور کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ یہ اجلاس مفتی محمد ایوب قاسمی، مولانا سعد عبداللہ ندوی، مولانا عثمان، مولانا وسیم، سینئر قانون داں ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی اور ایڈوکیٹ عبدالرحمٰن صدیقی کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔




