صحبت نبوت کا انتخاب ہے انتخاب لاجواب

شفیع احمد قاسمی استاذ حدیث جامعہ ابن عباس احمد آباد
نبی کی صحبت و رفاقت کا انتخاب خدائی انتخاب ہے، یہ خدا کے چیدہ چنیدہ اور برگزیدہ لوگ ہیں، یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں کہ انبیاء کے سوا چشم فلک نے نہ ان سے پہلے دیکھا، اور نہ ان کے بعد کبھی دیکھے گی، خدائے پاک نے جس طرح نبوت کا چناؤ کیا ہے ٹھیک اسی طرح اپنے محبوب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت کا انتخاب کیا ہے چنانچہ جیسے کوئی کثرت عبادت اور زور اطاعت سے نبی نہیں بن سکتا ایسے ہی قوت فرمانبرداری سے کوئی صحابی نہیں بن سکتا، غور کیجئے کوئی شخص اگر کسی صحابی پر اعتراض کرے صحابی رسول کو تنقید کا نشانہ
بنائے، اور صحابی رسول کی کمیوں اور کوتاہیوں کو اجاگر کرے ،تو درحقیقت یہ سیدھا انتخاب خداوندی پر اعتراض ہوگا خدا کے چنے ہوؤں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہوگا، بات بالکل صاف ہے، اسکول کے کسی ٹیچر پر اگر کوئی اعتراض کرے،اسکول کے عملہ کو تنقید کا نشانہ بنائے تو درحقیقت یہ اسکول کے ڈائریکٹر پر اعتراض ہوگا ،چونکہ اسکول کے عملہ اور ٹیچروں کا انتخاب ڈائریکٹر نے کیا ہے،
صحابی کی غیر معمولی عظمت وفضیلت
حدیث پاک میں وارد ہے ، میرے صحابہ کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر کو نہیں پہنچےگا – بخاری شریف (3673) غور طلب امر یہ ہے کہ احد پہاڑ کی لمبائی سات آٹھ کلومیٹر ہے، چوڑائی اس کی دو سے تین کلومیٹر جبکہ اس کی اونچائی سطح زمین سے تقریبا 350 میٹر ہے، اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وسیع و عریض پہاڑ کا وزن کسی کو پتہ نہیں خدا معلوم کتنا وزنی ہوگا، اس کا علم کسی کو نہیں،اور سونا اس دھرتی پر سب سے زیادہ قیمتی اور بیش قیمت مال ہے، بھلا کوئی فرد اس قیمتی مال کو راہ خدا میں خرچ کرے گا تو کتنی مقدار میں کریگا، دو چار دس کلو خرچ کرے گا، دو چار کونٹل خیرات کر یگا، تاہم وہ کسی چھوٹے
پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ نہیں کر سکتا،انسانیت کی تاریخ میں اتنی خطیر مقدار خیرات نہ کوئی کر سکا ہے اور نہ کر سکے گا، یہ ناممکن اور محال امر ہے، کہ احد پہاڑ کے برابر کوئی سونا خیرات کر دے سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث پاک سے یہ پیغام اور میسج دینا چاہتے ہیں کہ بارگاہ ایزدی میں میرے صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ ان کی عظمت و رفعت اس قدر بلند وبالا ہے کہ کسی غیر صحابی کی رسائی وہاں تک
نہیں ہو سکتی کوئی کتنا ہی مجاہدہ کرلے، بڑے سے بڑا ولی قطب ابدال کسی ادنی درجے کے صحابی کے پاؤں کے دھول برابر نہیں ہو سکتا، امت محمدیہ میں آنے والی نسلوں کو یہ خیال گزر سکتا تھا ،کہ یومیہ وہ 20 پارے تلاوت کرتا ہے، شب و روز میں ایک ختم قرآن پڑھتا ہے، 50 رکعتیں نوافل ادا کرتا ہے سال کے 365 دن روزہ رکھتا ہے، اس قدر مجاہدات اور ریاضت شاید کسی صحابی نے نہیں کیا ہوگا، تو زبان رسالت نے اس شبہ کو ختم کردیا، اور بتایا کہ کتنی ہی عبادتیں کرلیں، کسی معمولی درجے کے صحابی کے رتبہ و مقام کو نہیں چھو سکتے،
صحابہ کرام کے مرتبے کو پہچانیے
اس دھرتی پر سب سے بابرکت جگہ مسجد ہے جامع مسجد اس سے زیادہ افضل جگہ ہے، اور تمام مساجد میں مسجد اقصی کو فوقیت و برتری حاصل ہے، اور مسجد نبوی فضیلت میں مسجد اقصی سے اعلیٰ و برتر ہے، پھر مسجد حرام کی فضیلت و برتری کا کیا پوچھنا ؟ یہ مسجد اقصی سے بھی اوفق و اعلیٰ ہے ، اور مسجد حرام میں کعبۃ اللہ سب سے زیادہ معزز اور افضل جگہ مانی جاتی ہے، اور اس سے بھی زیادہ افضل عرش کرسی ہے، لیکن امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ عرش و کرسی سے بھی زیادہ افضل جگہ وہ ہے جو سرور دو عالم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر سے متصل اور ملی ہوئی ہے، اور اس مبارک متبرک جگہ کو اس لیے فضیلت اور برتری حاصل ہے کہ نبی آخر الزماں محبوب کبریا صلی
اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر سے متصل ہے، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ مٹی جو بے جان اور بے حرکت ہے، جس میں عقل و شعور نہیں، خلاصۃ الکائنات سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت سے اس کا اتنا بلند و بالا مقام ہو سکتا ہے، تو بھلا بتائیے اگر اشرف المخلوقات کو اس باکمال ہستی کی صحبت و رفاقت میسر آجائے، اس کے دیدار و زیارت نصیب ہوجائے اس سے گفت و شنید کا سنہرا موقع مل جائے تو اس کے شرف و کمال اور اعزاز و فضیلت کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ؟ یہ ہے صحابہ کرام کی فضیلت و عظمت ،اور دربار الہی میں ان کا مقام و مرتبہ،خدا ہمیں بھی ان بزرگوں کی پیروی اور نقش قدم پر گامزن فرما دے




