مضامین

​رتیکا چوپڑا کا تاریخی اقدام: الیکشن کمیشن کے ’بلیک باکس‘ سے بے نقاب ہوتے حقائق……

(خالد خان)
ہندوستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی منظر نامے پر پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں دو نام مسلسل بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں: سینئر صحافی رتیکا چوپڑا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ ایک طرف ‘دی انڈین ایکسپریس’ کی سینئر صحافی رتیکا چوپڑا ہیں، جن کی تحقیقاتی صحافت (Investigative Journalism) کو عوام بالخصوص نئی نسل (Gen Z) کی جانب سے بے حد پذیرائی مل رہی ہے؛ تو دوسری طرف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ہیں، جن پر برسرِ اقتدار جماعت کی مبینہ طرف داری اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کی زد میں آنے کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں۔ آج یہ دونوں شخصیات ہندوستانی عوام کی نظروں میں بالترتیب سچ اور جھوٹ کے تصادم کی علامت بن کر سامنے آئی ہیں۔

​جنتر منتر پر احتجاج اور الیکشن کمیشن پر سوالات
​دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر مختلف سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دورِ اقتدار میں الیکشن کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردار پر اٹھنے والے سوالات اور ‘ایس ای آر (SIR) مہم کے دوران ہونے والی مبینہ بے ضابطگیاں اس احتجاج کا مرکزی نقطہ ہیں۔ آئینی اداروں کی اس مبینہ جانب داری نے ملک کے جمہوریت پسند شہریوں اور نوجوانوں میں شدید بے چینی اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔
​صحافت کا اصل جوہر: تحقیق (Investigation) اور حقیقت پسندی
​رتیکا چوپڑا گزشتہ 11 سالوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور پچھلے 10 سالوں سے الیکشن کمیشن کی بیٹ (Beat) کی ذمہ داری انتہائی سنجیدگی سے نبھا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات اور مبینہ بے ضابطگیوں کو سامنے لانے کے بعد ایک انٹرویو میں صحافت کے بنیادی اصولوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
​”صحافت کی اصل طاقت اور معنی صرف اور صرف ‘تحقیقاتی صحافت’ (Investigation) ہے، اور میں اور میری ٹیم اسی اصول کی پاسداری کرتے ہیں۔”

​ان کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں اخبار پڑھنے کا رجحان کم ضرور ہوا ہے، لیکن قارئین آج بھی سچائی، غیر جانبداری اور حقائق پر مبنی خبریں ہی پڑھنا چاہتے ہیں۔ جب ایک صحافی بغیر کسی سنسنی خیزی کے محض حقائق کو سامنے لاتا ہے، تو وہی صحافت کی اصل طاقت ہوتی ہے۔
​حکومت اور اداروں کا "بلیک باکس”
​سچی اور تحقیقاتی صحافت کی وضاحت کرتے ہوئے رتیکا چوپڑا نے اسے حکومت کا "بلیک باکس” قرار دیا۔ ان کا یہ استعارہ بے حد معنی خیز ہے؛ جس طرح کسی جہاز کے حادثے کے بعد اس کی اصل کہانی ‘بلیک باکس’ میں محفوظ ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جمہوری نظام میں اقتدار کے پردے کے پیچھے ہونے والی دھاندلیوں، بدعنوانیوں اور فیصلوں کا سچ عوام کے سامنے لانا ایک سچے صحافی کا فرض ہے۔
​رتیکا چوپڑا کی یہ تحقیقاتی رپورٹ راتوں رات ملنے والی کوئی عام خبر نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے مہینوں کی مسلسل محنت شامل تھی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے تینوں الیکشن کمشنروں کے اندرونی اختلافات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ممبئی، گوا اور کولکاتا جیسے شہروں کا دورہ کرکے زمینی سطح سے ٹھوس ثبوت اکٹھے کیے۔

​”گودی میڈیا” کے دور میں امید کی کرن
​آج کے دور میں، جہاں میڈیا کے ایک بڑے حصے پر "گوڈی میڈیا” کا لیبل لگ چکا ہے اور جو اقتدار سے سوال کرنے کے بجائے اس کی چاپلوسی کرتا نظر آتا ہے، وہاں رتیکا چوپڑا جیسے ایماندار، بے باک اور نڈر صحافی کا ابھرنا ایک بڑی امید کی کرن ہے۔
​رتیکا چوپڑا کی یہ دلیرانہ تحقیقاتی صحافت ہندوستان کی جمہوریت، آئین اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف انتخابی نظام کی خامیاں اجاگر کی ہیں بلکہ صحافت کے گرتے ہوئے معیار کو ایک بار پھر نئی بلندی اور وقار عطا کیا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
error: Content is protected !!