قومی

جمعیۃ علماء میرا بھائندر کی مشاورتی میٹنگ میں اصلاحِ معاشرہ اور ہندو مسلم اتحاد کی حکمتِ عملی پر غور

میرا روڈ6؍ اکتوبر جمعیۃعلماء ضلع تھانے کی میرا بھائندر یونٹ کے زیرِ اہتمام اصلاحِ معاشرہ اور مشاورتی میٹنگ گزشتہ کل اتوار کو صبح ساڑھے دس بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک عمر مسجد، لودھا روڈ، میرا روڈ، ضلع تھانے میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت جمعیۃعلماء میرا روڈ کےصدر مولانا محمد زکریا ناندولیہ نے فرمائی۔
میٹنگ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظمِ تنظیم اور جمعیۃ علماء ضلع تھانے کے صدر مولانا مفتی حفیظ اللہ قاسمی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور میرا روڈ یونٹ کی تنظیمی و سماجی سرگرمیوں اور کارکردگی پر مؤثر گفتگو کرتے ہوئے مزید فعالیت اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقررِ خصوصی ،مفکرِ قوم و ملت مولانا حلیم اللہ قاسمی مدظلہ العالی، صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر و نائب صدر امیرِ شریعت مہاراشٹر، نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے دین، قوم و ملت کی خدمت کو اپنا مقصد سمجھتے ہوئے اکابرینِ جمعیۃکی رہنمائی اور مشوروں کے مطابق پوری تندہی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ ملت کے مسائل کے تئیں بیدار، فعال اور متحرک رہیں اور اجتماعی مفاد کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی جدوجہد اور قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی زندگی کے مختلف واقعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اکابرینِ امت نے قوم و ملت کی خدمت اور ملک و ملت کے مفاد کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور بے شمار تکالیف کا سامنا کیا۔ ان کی قربانیاں آج کے کارکنان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے استاذِ محترم شیخ الہند کے مشن کو آگے بڑھانے اور قوم و ملت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ مدینہ منورہ جیسی مقدس سرزمین میں تقریباً سترہ سال قرآن و حدیث کی تدریس کے بعد انہوں نے ہندوستان واپس آکر قوم و ملت کی خدمت کو ترجیح دی۔ ان کا یہ فیصلہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ قوم و ملت کی خدمت ایک عظیم ذمہ داری اور عند اللہ اجرِ عظیم کا ذریعہ ہے۔

خطاب کے دوران مولانا موصوف نے عوامی بیداری، ہندو مسلم اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور ملک میں امن و امان کے موضوع پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں معاشرے کے اندر باہمی اعتماد، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک میں امن، شانتی اور سکون کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے صرف حکومت یا کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرےکے ہر فرد اور خصوصاً سماجی و مذہبی ذمہ داران کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کے لیے حکیمانہ، مثبت اور منصوبہ بند طریقۂ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جس کی رہنمائی قرآن کریم بھی کرتا ہے۔ غیر مسلم برادریوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کیے جائیں، ان سے گاہے بگاہے منصوبہ بند ملاقاتیں کی جائیں، باہمی اعتماد کو مضبوط کیا جائے اور مشترکہ سماجی مسائل کے حل کے لیے مل جل کر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے سے معاشرے میں نفرتوں کے بجائے محبت اور امن کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔

میٹنگ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اصلاحِ معاشرہ کے کام کو محض تقریروں اور اجلاسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زمینی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، سماجی برائیوں کے سدباب، عوامی بیداری اور مختلف طبقات کے درمیان رابطہ بڑھانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے۔

یہ مشاورتی میٹنگ جمعیۃ علماء ضلع تھانے کے جنرل سیکریٹری حافظ عارف انصاری کی اپیل پر منعقد کی گئی، جس میں ارکانِ منتظمہ اور ذمہ داران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بالخصوص جنرل سیکریٹری دبیر صدیقی ، معاون سیکریٹری عبداللہ خان ، نائب صدر مولانا فیروز قاسمی ، نائب صدر عارف حسنی ، نائب صدر ریاض علیگ اور خزانچی مولانا شیر علی سمیت دیگر ذمہ داران اور کارکنان موجود تھے۔
اجلاس کے اختتام پر صدرِ مجلس مولانا محمد زکریا ناندولیہ نے دعا فرمائی۔ شرکائے اجلاس نے اصلاحِ معاشرہ، ملی بیداری، سماجی ہم آہنگی اور ملک میں امن و اتحاد کے لیے جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے مزید منظم اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
رپورٹ: عبداللہ اصلاحی غازی پوری
9869754769

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!