کسی بات کو صرف دو-چار سطروں میں پیش کرنے کی صلاحیت صرف شاعر میں ہی ہوتی ہے : شاعر گووند کالے
تیلگو۔ مراٹھی ساہتیہ سنستھا و پوربھاگ عوامی کتب خانہ کے زیرِ اہتمام

شاعری محفل، فکری نشست، کتاب کی رسمِ اجراء،
کثیر لسانی شاعر فیسٹیول میں پروفیسر دستگیر جمعدار، شاعر مبارک شیخ، ایوب احمد کا اعزاز کیا گیا۔
سولاپور (اِقبال باغبان ) : تیلگو زبان کے شعراء و ادیبوں نے مل کر مہاراشٹر کی ریاستی زبان مراٹھی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے ’’تیلگو-مراٹھی‘‘ ساہتیہ سنستھا کی بنیاد رکھی اور اس کے لوگو کی نقاب کشائی سابق کارپوریٹر اور کتب خانہ کے صدر پانڈورنگ ڈیڈی کی صدارت میں ڈاکٹر لکشمن راؤ کارلے کے مبارک ہاتھوں اور پروفیسر نریندر گنڈیلی، ایڈووکیٹ شری نیواس کیاتم، ملیکارجن کامٹم، اروند چِنّی، ڈاکٹر شیواجی شندے، راجیندر بھوسلے، دتاتریہ انگلے، محترمہ رینوکا بدّھرام، وجے سوناونے کی خصوصی موجودگی میں افتتاحی تقریب انجام پائی۔
اس موقع پر سابق کارپوریٹر پانڈورنگ ڈیڈی عرف کاکا نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ دو زبانوں کو جوڑنے کا کام اس ادارے کے ذریعے ہو رہا ہے، یہ اچھا کام ہے اس لیے میں اس ادارے سے ہر طرح سے تعاون کا وعدہ کرتا ہوں۔اسی موقع پر دوپہر تین بجے سے چھ بجے تک کثیر لسانی شاعری محفل کا انعقاد بھی اہلیہ گاتھا کار گووند کالے کی صدارت میں اور روزنامہ ‘سکال کے نائب مدیر اروند موٹے، محترمہ راجشری جادھو، محترمہ سندھیا دھرمادھکاری، راجیندر بھوسلے، ناول نگار پروفیسر دستگیر جمعدار، پروفیسر نریندر گنڈیلی، اردو۔مراٹھی کے شاعر ایوب احمد نلّامندو، ناگندر مانےکری، شاعر مبارک شیخ، اشوک راؤ موہیتے، رام چندر دھرما بھوسلے کی نمایاں موجودگی میں ہوا۔
پچاس سے زائد مراٹھی، تیلگو، اردو، ہندی شعراء نے اپنی مختلف تخلیقات پیش کر کے داد حاصل کی۔ تین گھنٹے تک چلی اس شعری نشست میں پروفیسر نریندر گنڈیلی نے تمام معزز شعراء کو شال اور گلدستے دے کر اعزاز بخشا اور شاعر دتاتریہ انگلے نے نظامت کی۔
شاعر محفل کے صدر گووند کالے نے کہا کہ’’جو نہ دیکھے روی وہ دیکھے کوی‘‘ کے مطابق شاعر کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی ہر اچھی۔بُری چیز پر نظر رکھتے ہوئے کسی بھی بات کو سادہ طریقے سے صرف دو۔چار سطروں میں بیان کرنے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔
جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور یہ صلاحیت صرف شاعر میں ہوتی ہے، کسی بڑے مصنف میں نہیں۔ اسی لیے اس کا اثر بڑھتا جا رہا ہے۔اس کے بعد سینئر شاعر وجے کمار سونونے کے مراٹھی شعری مجموعہ ’’جن من کا ہنکار‘‘ کی رسمِ اجراء سولاپور یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر شیواجی شندے کے ہاتھوں اور ڈاکٹر لکشمن کارلے کی صدارت میں اور پروفیسر ڈاکٹر شروتی وڈکبالکڑ، پروفیسر ڈاکٹر شنکر اندانی کی نمایاں موجودگی میں انجام پائی۔ نظامت محترمہ وندنا کلکرنی نے کی تو شکریہ شاعر میوریش کلکرنی نے ادا کیا۔




