سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل کا انتقال

نئی دہلی / لاتور: سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل جمعہ کی صبح مہاراشٹر کے اپنے آبائی شہر لاتور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 90 برس تھی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق پاٹل مختصر علالت کے بعد اپنے رہائش گاہ ’دیَوگھر‘ میں چل بسے۔ پسماندگان میں ان کے بیٹے شیلش پاٹل، بہو ارچنا پاٹل—جو بی جے پی کی لیڈر ہیں—اور دو پوتیاں شامل ہیں۔
شیو راج پاٹل نے 2004 سے 2008 تک مرکزی وزیر داخلہ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس سے قبل وہ 1991 سے 1996 تک لوک سبھا کے دسویں اسپیکر رہے۔ بعد ازاں 2010 سے 2015 تک وہ پنجاب کے گورنر اور چندی گڑھ کے ایڈمنسٹریٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔

12 اکتوبر 1935 کو پیدا ہونے والے پاٹل نے اپنا سیاسی سفر لاتور کی میونسپل کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے شروع کیا۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور بعد ازاں سات مرتبہ لاتور کی لوک سبھا نشست جیتی۔ 2004 کے انتخابات میں انہیں بی جے پی امیدوار روپا تائی پاٹل نلانگیکر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کانگریس حلقوں میں شیو راج پاٹل کو ان کے باوقار برتاؤ، شائستگی، تہذیب اور تحملکے لیے خصوصی احترام حاصل تھا۔ وہ نہ تو کبھی شخصی حملوں کا سہارا لیتے تھے اور نہ ہی سیاسی بیان بازی میں تلخی لاتے تھے۔
وسیع مطالعہ، تحقیقی اندازِ فکر اور گہرے تجزیاتی شعور نے انہیں ایک ممتاز پارلیمنٹیرین کا مقام دلایا۔ مراٹھی، اردو، ہندی اور انگریزی پر عبور اور آئینی معاملات پر مضبوط گرفت انہیں اپنے دور کے معتبر ترین سیاسی رہنماؤں میں شمار کرتی تھی۔




