مضامین

ڈیجیٹل دور میں اعتکاف سکونِ دل کی روحانی پناہ گاہ

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
            ┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

انسانی تاریخ کے ہر دور میں انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنے ربّ سے تعلق کو تازہ کرنے اور زندگی کے مقصد کو سمجھنے کے لیے تنہائی اور سکون کی ضرورت رہی ہے۔ اسلام نے اسی فطری ضرورت کو ایک بامعنی اور بابرکت عبادت کی صورت میں اعتکاف کے ذریعے منظم کیا۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مساجد میں بیٹھ کر دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر اللّٰہ کی عبادت میں مشغول ہونا دراصل انسان کے باطن کی تعمیر کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

آج جب ہم ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں تو اعتکاف کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس دور میں جہاں انسان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا موبائل فون پوری دنیا کو سمیٹ کر لے آیا ہے، وہیں اسی نے انسان کے دل و دماغ کو مسلسل مصروفیت، اضطراب اور فکری انتشار میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اعتکاف ایک ایسی روحانی پناہ گاہ بن جاتا ہے جہاں انسان اپنے اصل مقصدِ حیات کو دوبارہ دریافت کر سکتا ہے۔

بلاشبہ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں۔ معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں اور دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہو گئی ہے۔ لیکن اس سہولت کے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی پیدا ہوا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے انسان کی توجہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر لمحہ آنے والی اطلاعات، سوشل میڈیا کی مصروفیات اور مسلسل اسکرین کے سامنے رہنے کی عادت نے انسان کی توجہ، سکون اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

آج کا انسان بظاہر بہت مصروف ہے مگر اندر سے خالی محسوس کرتا ہے۔ اس کے پاس معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم ہے۔ وہ لوگوں سے جڑا ہوا نظر آتا ہے مگر اپنے ربّ اور اپنے باطن سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں انسان کے لیے سکون، یکسوئی اور روحانی توازن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ جب زندگی کی رفتار حد سے زیادہ تیز ہو جائے، جب معلومات کا سیلاب انسان کے ذہن کو تھکا دے اور جب مصروفیات کا ہجوم دل کو بے قرار کر دے، تو انسان فطری طور پر کسی ایسی پناہ گاہ کی تلاش کرتا ہے جہاں اسے سکون، خاموشی اور خود سے ملاقات کا موقع مل سکے۔ اسی ضرورت کا ایک بامعنی اور بابرکت جواب اسلام نے اعتکاف کی صورت میں فراہم کیا ہے۔

اعتکاف دراصل روحانی خلوت کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جب انسان اپنی روزمرہ کی دوڑ سے الگ ہو کر اللّٰہ کے گھر میں بیٹھتا ہے اور اپنے دل کو دنیا کی ہنگامہ خیزی سے آزاد کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دور کے شور و غل میں اعتکاف گویا خاموشی کی ایک پُرسکون وادی ہے۔ یہاں نہ سوشل میڈیا کی بے مقصد گفتگو ہوتی ہے، نہ خبروں کا ہجوم، نہ ہی دنیاوی مصروفیات کا دباؤ۔ یہاں صرف انسان ہے، اس کا ربّ ہے اور اس کے دل کی آواز ہے۔

اسی تنہائی میں انسان اپنے وجود کی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ وہ اپنے اندر جھانکنے لگتا ہے، اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے اور زندگی کے مقصد پر دوبارہ غور کرتا ہے۔ یوں اعتکاف محض چند دن مسجد میں گزارنے کا نام نہیں بلکہ یہ دراصل انسان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا کرنے کا سفر ہے۔ ایک ایسا سفر جو اسے دنیا کے شور سے نکال کر اپنے ربّ کے قرب اور اپنے باطن کی روشنی تک پہنچا دیتا ہے۔

جدید نفسیات اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان کو ذہنی سکون کے لیے وقفہ، خاموشی اور خود سے گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلام نے صدیوں پہلے اعتکاف کے ذریعے یہ موقع فراہم کر دیا تھا۔ اعتکاف انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر لمحہ مصروف رہنا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی رک کر سوچنا بھی ضروری ہے۔ دل کو بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسجد کے پُرسکون ماحول میں قرآن کی تلاوت، ذکر و دعا اور عبادت کے ذریعے انسان کے دل پر چھائی ہوئی غفلت کی دھول دھلنے لگتی ہے۔ یہ کیفیت انسان کے اندر ایک نئی تازگی اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔

درحقیقت اعتکاف انسان کو اس ہجومِ زندگی سے چند لمحوں کے لیے الگ کر دیتا ہے جس میں وہ اکثر اپنے آپ کو کھو دیتا ہے۔ جب انسان دنیا کی مصروفیات سے الگ ہو کر خاموشی میں اپنے ربّ کے سامنے بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سکون کی ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہی سکون اسے اپنی زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے اور اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی قوت عطاء کرتا ہے۔ اسی پس منظر میں اگر ہم موجودہ دور کی ایک معروف اصطلاح پر نظر ڈالیں تو اعتکاف کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

آج دنیا میں ایک اصطلاح بہت عام ہو گئی ہے جسے "ڈیجیٹل ڈیٹاکس” کہا جاتا ہے، یعنی کچھ وقت کے لیے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے دور رہنا تاکہ ذہنی توازن بحال ہو سکے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اعتکاف دراصل روحانی اور ڈیجیٹل دونوں طرح کا ڈیٹاکس ہے۔ یہ انسان کو اس عادت سے آزاد کرتا ہے کہ وہ ہر لمحہ اسکرین کے ذریعے دنیا سے جڑا رہے۔

اعتکاف انسان کو یاد دلاتا ہے کہ سب سے اہم تعلق اللّٰہ کے ساتھ تعلق ہے۔ جب انسان چند دن کے لیے دنیا کی ظاہری مصروفیات سے الگ ہو کر اللّٰہ کے گھر میں بیٹھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی اصل ضرورتیں بہت سادہ ہیں۔ یوں اعتکاف انسان کو اس حقیقت کا شعور دیتا ہے کہ سکون اور اطمینان کسی بیرونی شور میں نہیں بلکہ دل کی اس خاموشی میں پوشیدہ ہے جہاں انسان اپنے ربّ کے قریب ہو جاتا ہے اور اپنے وجود کی اصل معنویت کو دوبارہ دریافت کر لیتا ہے۔

ڈیجیٹل دور کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑا ہے۔ نوجوان اپنی توانائی، ذہانت اور وقت کا بڑا حصّہ سوشل میڈیا، آن لائن سرگرمیوں اور ڈیجیٹل تفریحات میں صرف کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ سرگرمیاں تفریح اور معلومات کا ذریعہ معلوم ہوتی ہیں، مگر اکثر یہ نوجوان کے قیمتی وقت اور ذہنی یکسوئی کو منتشر بھی کر دیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں اعتکاف نوجوان کے لیے ایک روحانی تربیت گاہ بن سکتا ہے۔ یہ چند دنوں کی عبادت دراصل ایک ایسی تربیت فراہم کرتی ہے جو نوجوان کے فکر و کردار کو نئی سمت عطاء کر سکتی ہے۔

اعتکاف نوجوان کو سکھاتا ہے!! وقت کی قدر کیسے کی جائے! مقصد کے ساتھ زندگی کیسے گزاری جائے!! اور اللّٰہ کے ساتھ تعلق کو کیسے مضبوط بنایا جائے!!! اعتکاف کے دوران نوجوان جب قرآن کا مطالعہ کرتا ہے، دعا میں آنسو بہاتا ہے اور راتوں کو عبادت میں گزارتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہ روشنی صرف عبادت کا جذبہ ہی نہیں بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا شعور بھی عطاء کرتی ہے۔ اسی روحانی ماحول میں نوجوان کو یہ موقع بھی ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرے اور اپنے ماضی اور مستقبل کا جائزہ لے۔ یہی مرحلہ دراصل اعتکاف کے ایک اور اہم پہلو کی طرف لے جاتا ہے۔

اعتکاف انسان کو اپنے ماضی کا جائزہ لینے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا کی مصروفیات میں انسان اکثر اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے رک کر اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ مگر اعتکاف کی خاموش اور پُرسکون فضا انسان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے دل کی آواز سن سکے۔
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان خود سے سوال کرتا ہے:
میں نے اپنی زندگی کہاں صرف کی؟
کیا میری ترجیحات درست ہیں؟
کیا میں اللّٰہ کے قریب ہو رہا ہوں یا دور؟

یہ سوالات انسان کے اندر ایک نئی بیداری پیدا کرتے ہیں۔ جب انسان دیانت داری کے ساتھ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے تو اسے اپنی کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اپنی اصلاح کا راستہ بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ یوں اعتکاف صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ خود احتسابی، اصلاح اور نئی زندگی کے عزم کا ایک بابرکت موقع بن جاتا ہے، جہاں سے انسان ایک بہتر اور بامقصد زندگی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔

اگرچہ اعتکاف بظاہر ایک ذاتی عبادت ہے، مگر اس کے اندر ایک گہرا اجتماعی پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ مسجد میں مختلف لوگ ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایک ایسا روحانی ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں ہر فرد کو عبادت اور اصلاحِ نفس کی طرف رغبت محسوس ہوتی ہے۔ اس ماحول میں انسان یہ احساس بھی حاصل کرتا ہے کہ وہ تنہا نہیں بلکہ ایک بڑی اُمّت کا حصّہ ہے۔ ایک ایسی اُمّت جس کی بنیاد ایمان، اخوت اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔ چنانچہ اعتکاف انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اس کی ذمّہ داری صرف اپنی ذات تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کی اصلاح اور بھلائی کے لیے بھی ذمّہ دار ہے۔

یوں مسجد کی یہ اجتماعی فضاء انسان کے دل میں اُمّت کے ساتھ تعلق اور مشترکہ مقصد کا شعور بیدار کرتی ہے۔ یہی شعور آگے چل کر فرد کو ایک باشعور اور ذمّہ دار شہری بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی پس منظر میں جب ہم موجودہ زمانے کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو اعتکاف کی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ڈیجیٹل دور نے انسان کو معلومات، رفتار اور سہولتیں تو فراہم کر دی ہیں، مگر اس کے ساتھ اس کے دل و دماغ کو بے سکونی اور فکری انتشار کا شکار بھی بنا دیا ہے۔ ایسے میں اعتکاف محض ایک عبادت نہیں بلکہ روحانی توازن بحال کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔

اعتکاف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے ربّ سے تعلق میں ہے۔ جب انسان کچھ دن کے لیے دنیا کے شور سے الگ ہو کر اللّٰہ کے گھر میں بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے، ایک ایسا سکون پیدا ہوتا ہے جو دنیا کی مصروفیات میں اکثر گم ہو جاتا ہے۔ یوں اعتکاف دراصل ڈیجیٹل شور کے درمیان سکون کی ایک پناہ گاہ ہے، جہاں انسان اپنے ربّ سے دوبارہ جڑتا ہے اور اپنی زندگی کو ایک نئے شعور کے ساتھ آگے بڑھانے کا عزم کرتا ہے۔ اور شاید یہی اعتکاف کا اصل مقصد ہے کہ انسان دنیا کی بھیڑ میں گم نہ ہو جائے بلکہ اپنے ربّ کی طرف لوٹنے کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھے۔

✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!