تفریح

"غزل کا سحر – بشیر، بشر اور قمر” ادبی شام اورنگ آباد میں تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئی

اورنگ آباد: حنا ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی اور مطلع ادب فاؤنڈیشن کی جانب سے ونچسٹر انٹرنیشنل انگلش اسکول کے اشتراک سے "غزل کا سحر… بشیر، بشر اور قمر” کے عنوان سے ایک عظیم الشان ادبی و ثقافتی شام کا انعقاد کیا گیا۔

اس پروگرام کا تصور شہر کی آبرو، معروف ماہر تعلیم، اور غزل گلوکار ڈاکٹر دوست محمد خان صاحب کا تھا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر سہیل ذکی الدین نے انجام دیے۔

تقریب کا آغاز مہمانوں کے استقبال سے ہوا۔ اس محفل کے صدر جناب حسین اختر صاحب، چیئرمین، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی تھے۔ دیگر معزز مہمانان میں جناب کریم سالار صاحب، ڈاکٹر دوست محمد خان صاحب، ڈاکٹر شہاب افسر صاحب اور ڈاکٹر قاضی نوید صاحب شامل تھے۔ پروگرام کا آغاز صدر کی گلپوشی اور شمع افروزی (چراغ روشن کرنے) کی رسم سے ہوا جو اردو تہذیب کی علامت ہے۔

پروگرام کا آغاز انتہائی رنجیدہ ماحول میں ہوا۔ آج صبح گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے صبح 5:20 بجے انتقال کر جانے والے ممتاز اداکار نانا پاٹیکر کو دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ میزبان نے کہا، "آج ہندوستان نے ایک انمول ہیرا کھو دیا ہے۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں تھے، وہ ایک سوچ تھے۔ 3 نیشنل ایوارڈ اور پدم شری کے علاوہ، نام فاؤنڈیشن کے ذریعے کسانوں کے لیے ان کا کیا ہوا کام کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔”

نامور شعراء کو خراج تحسین

اس شام کا موضوع اردو غزل کے تین ستونوں – بشیر بدر، بشر نواز اور قمر اقبال کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔

قمر اقبال: اورنگ آباد کے وہ شاعر جنہوں نے اپنے قلم کے زور پر اپنی شاعری کو پوری دنیا میں منوایا ہے، عام آدمی سے جڑی شاعری کے لیے معروف ہیں۔ ان کا تعارف ڈاکٹر شہاب افسر صاحب نے پیش کیا۔ ان کے فرزند سہیل خان کو اسٹیج پر تہنیت پیش کی گئی۔

بشر نواز: اورنگ آباد کی پہچان، مہاراشٹر راجیہ ساہتیہ پرسکار، پُ۔ ل۔ دیش پانڈے پرسکار اور نیشنل غالب ایوارڈ یافتہ۔ ان کا تعارف پروفیسر ڈاکٹر قاضی نوید صاحب نے پیش کیا۔ ان کے فرزند یحییٰ خان کو اعزاز سے نوازا گیا۔

بشیر بدر: غزل کے بے تاج بادشاہ۔ ان کا مختصر تعارف ڈاکٹر دوست محمد خان صاحب نے پیش کیا۔ ان کے شاگرد اور دوست جناب کریم سالار صاحب (جنہیں بشیر بدر نے میرٹھ کالج میں پڑھایا تھا) کی پذیرائی کی گئی۔

ڈاکٹر دوست محمد خان صاحب، جنہیں 40 سالہ غزل گوئی کا تجربہ ہے، نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی کی پہلی غزل 1964 میں پدم شری سکندر علی وجد صاحب کی سبکدوشی کے موقع پر منعقدہ "شام وجـد” میں گائی تھی۔

محب اردو ایوارڈ تقریب

پروگرام کا اہم ترین حصہ محب اردو ایوارڈ تھا جو ان 10 شخصیات کو دیا گیا جن کی مادری زبان اردو نہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اردو سے محبت کی اور اس کی خدمت کی۔
اس ایوارڈز کی خوبصورت ٹرافیز ونچسٹر انٹرنیشنل کی جانب سے ڈاکٹر شہاب افسر خان نے پیش کی تھیں
ایوارڈ یافتگان:

– ڈاکٹر کیرتی مالنی جاولے – پروفیسر و صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی
– ڈاکٹر کرُنا بھالچندر دیشپانڈے – ریٹائرڈ پروفیسر موسیقی، گورنمنٹ کالج آف آرٹس اینڈ سائنس، آل انڈیا ریڈیو کی گریڈڈ آرٹسٹ
– ڈاکٹر شری رنگ دیشپانڈے – سکریٹری، شری سرسوتی بھون ایجوکیشن سوسائٹی
– ڈاکٹر ایڈوکیٹ دنیش گنگاپور والا – چیئرمین، شری سرسوتی بھون ایجوکیشن سوسائٹی
– ڈاکٹر ویشالی دیشمکھ – پرنسپل، گورنمنٹ کالج آف آرٹس اینڈ سائنس، گوالیار اور جے پور گھرانے کی معروف کلاسیکل گلوکارہ
– پنڈت وشوناتھ اوک – معروف کلاسیکی موسیقار، گلوکار اور آل انڈیا ریڈیو کے منظور شدہ کمپوزر
– آنکوش راؤ جی قدم – چانسلر، ایم جی ایم یونیورسٹی
– بعد از مرگ ایوارڈ:
ڈاکٹر آشالتا کرلگیکر (بیٹی کویتا وٹنی نے وصول کیا)،
ڈاکٹر بی۔ جی۔ جوشی (بیٹے سنجے جوشی نے وصول کیا)، اور
پنڈت ناتھراؤ جی نیرلکر (سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ یافتہ، بیٹے جینت نیرلکر نے وصول کیا)۔

صدارتی خطاب جناب حسین اختر صاحب نے فرمایا۔ افتتاحی سیشن کا شکریہ ڈاکٹر قاضی نوید صاحب نے ادا کیا۔

تقریب کا اختتام ایک مسحور کن شب غزل سے ہوا جس کی نظامت ڈاکٹر دوست محمد خان اور محترمہ کویتا وطنی صاحبہ نے کی، جہاں غزل کے رنگ، عشق کی بات اور اردو کی مٹھاس کا لطف اٹھایا گیا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!