’’ایک شام گاندھی کے نام‘‘: کل ہند مشاعرے کا کامیاب انعقاد

رپورٹ(خان افراء)
8 اکتوبر 2026 مہاتما گاندھی کے افکار و نظریات، امن و امان، عدم تشدد اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کے مقصد سے جمعرات، 8 اکتوبر کو مہاتما گاندھی مشن اور مہاراشٹر گاندھی اسمارک ندھی، پونے کے زیرِ اہتمام، آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کے اشتراک سے کل ہند گاندھی ساہتیہ سمیلن 2026ء کے تحت ایک خوبصورت شام بعنوان ’’ایک شام گاندھی کے نام‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔
مائنڈز ان موشن کی کاوشوں نے اس مشاعرے کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس موقع پر منعقدہ کل ہند مشاعرے میں ملک کے مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے امن، محبت، بھائی چارے، عدم تشدد اور انسانیت کا پیغام پیش کیا۔مشاعرے میں ہندوستان کے مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والے شعراء نے شرکت کی اور اپنے منفرد طرز تخاطب، جُداگانہ اندازِ سخن، شیریں بیاں لب و لہجے سے سامعین کے دلوں کو مسحور کردیا، جن میں بلڈھانہ سے تعلق رکھنے والے عظیم راتپوری اور شولاپور کے سراج سلاپوری نے اپنی طنز و مزاح سے بھرپور شاعری کے ذریعے خوب داد و تحسین حاصل کی، جبکہ کھنڈوہ مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے سفیان قاضی نے اشعار جیسے
نہ تجھ سے کچھ گلہ ہے اور نہ قسمت سے شکایت ہے
ہمیں معلوم ہے ہم کو محبت میں ملامت ہے
تمہارے لوٹ آنے کا بھروسہ اب نہیں لیکن
دلِ ناداں کو دیکھو اب بھی تیری ہی ضرورت ہے
پیش کیا اور سامعین سے داد تحسین حاصل کی، مشاعرے کا سلسلہ یوں ہی آگے بڑھا اور اسی سر زمین دکن یعنی شہر خجستہ بنیاد اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے شاعر سلیم محی الدین جنھوں نے غزلوں میں اپنی منفرد شبیہ قائم کی اور چھوٹی بحر کا بڑا شاعر کہلائے۔ سلیم محی الدین نے اپنی غزلوں سے مشاعرے کو بامِ عروج بخشا، ایسے ہی چندرپور کے اسرار چندروری، ہماچل پردیش کے شاہد انجم، دہلی کے اقبال اشہر اور برہان پور کے نعیم اختر خادمی نے بھی اپنے کلام سے مشاعرے کو ادبی رنگ عطا کیا۔
شاہد انجم نے مردم شماری کے موضوع پر اپنے برجستہ شعر:
’’قیامت آئے گی بعد میں
ابھی مردم شماری چل رہی ہے‘‘
کے ذریعے سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ ملک و بیرون ممالک میں سنے جانے والے شاعر اقبال اشہر نے اپنی نظم ’’2 اکتوبر‘‘ پیش کی، جس میں گاندھی جی کے افکار و نظریات پیغام امن کو بہترین اسلوب کے ساتھ شاعری میں ڈھالا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ وہیں برہان پور کے نعیم اختر خادمی جن کے اشعار اردو دنیا میں گونجتے رہتے ہیں جنھوں نے ملک ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی اپنی شاعری خوب مقبول کرائی، نعیم اختر خادمی سے سامعین اپنی پسندیدہ غزلوں کی فرمائش کرنے لگے جس پر چند غزلیں انھوں نے پیش کی اور مشاعرے کو گرما دیا خاص طور پر یہ شعر
’’ذرا سا جوش کیا دریا میں آیا
سمندر کی برائی کر رہا ہے‘‘
پڑھتے وقت سامعین نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔
مشاعرے کی صدارت ارتکاز افضل نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے مہاتما گاندھی کے افکار، امن و آشتی، عدم تشدد اور انسانی اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ادب اور شاعری کو معاشرے میں محبت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ مشاعرے کی نظامت مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے اسماعیل نظر نے بحسن و خوبی انجام دی۔ ان کی دلکش نظامت نے محفل کے ادبی وقار میں اضافہ کیا اور شعراء و سامعین کے درمیان ایک خوش گوار ادبی ربط قائم رکھا۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے ایم جی ایم یونیورسٹی کے چانسلر انکُش راؤ کدم کی اردو زبان سے محبت اور ادبی سرگرمیوں کے لیے ان کی معاونت قابلِ ذکر ہے۔ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے ایجوکیشن ایکسپو کے ساتھ جاری تعاون اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں کے تحت شہرِ عزیز میں اس نوعیت کے مشاعروں کا انعقاد اردو کی ادبی و تہذیبی روایت کو تقویت دینے کی ایک اہم کاوش ہے۔ ایسے ادبی اجتماعات نہ صرف شعر و ادب سے وابستہ افراد کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں، بلکہ نئی نسل میں اردو زبان سے دلچسپی پیدا کرنے اور اس کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گاندھی جی کے افکار کی روشنی میں منعقد ہونے والی یہ محفل اس حقیقت کی عکاس رہی کہ ادب اور شاعری محبت، رواداری، امن اور انسانیت کے پیغام کو عام کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
ایم جی ایم یونیورسٹی کے ساتھ گزشتہ تقریباً تین برسوں سے جاری کام کے تجربے کی روشنی میں مستقبل میں آل انڈیا پیامِ انسانیت فورم کے اشتراک سے مزید سماجی اور ادبی سرگرمیاں انجام دینے کے عزائم بھی وابستہ ہیں۔ اس سلسلے میں شہر میں سماجی خدمات کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کرنے کا ارادہ ہے۔




