مہاراشٹرا

مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ مقدمہ سے ڈسچارج دھان سنگھ و دیگر تین ملزمین کو دھچکا

نئی دہلی 10 / اکتوبر مالیگاؤں 2006 / بم دھماکہ مقدمہ میں بامبے ہائی کورٹ سے مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین کو گذشتہ کل اس وقت شدید دھچکا لگا جب سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی نے قومی تفتیشی ایجنسی NIA، ملزمین دھان سنگھ،راجندر چودھری،منوہر سنگھ، لوکیش شرما،اسٹیٹ آف مہاراشٹر، ڈائرکٹر جنرل آف پولس مہاراشٹر،سی بی آئی و دیگر کو نوٹس جاری کیا۔مالیگاؤں 2006/ بم

دھماکہ متاثرین نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی تھی جس پر کل سماعت عمل میں آئی۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کوبتایا کہ بامبے ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کی جانب سے ملزمین کے خلاف چار ج فریم کیئے جانے کے باوجود انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ این آئی اے نے ملزمین کو گرفتار کرتے وقت ان کے خلاف پختہ ثبوت و شواہد جمع کیئے تھے۔ سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے عدالت کو مزید بتایا کہ شب برات کے دن حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور

مشاورت چوک (مالیگاؤں)میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 31/ بے قصور نمازیوں کی جانیں تلف ہوئی تھیں جبکہ 300/ سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ یہ ناصرف بم دھماکہ تھا بلکہ ملک کی سالمیت اور یکجہتی پر سیدھا حملہ تھا، ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو مزید بتایا کہ بامبے ہائی کورٹ نے دھان سنگھ و دیگر ملزمین کی اپیلوں پر سماعت کے وقت بم دھماکہ متاثرین کے دلائل کی سماعت نہیں کی تھی۔نتیا راما کرشنن کے دلائل کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل کردہ عرضداشتوں کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے

چھ ہفتوں کے بعد اگلی سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کی معاونت ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ یش وجئے، ایڈوکیٹ اشیت و دیگر نے کی۔سپریم کورٹ آف انڈیا کی عدالتی کارروائی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ بم دھماکہ متاثرین کو انصاف ملے اس کے لیئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے پٹیشن سماعت کے لیئے قبول ہونا اور ملزمین کو نوٹس جاری

ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ ملزمین دھان سنگھ و دیگر کو گرفتار کرنے کے بعد اگر قومی تفتیشی ایجنسی ایمانداری سے مقدمہ کی پیروی کرتی تو ابتک مقدمہ کی سماعت مکمل ہوچکی ہوتی لیکن بیس سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود ابھی تک بم دھماکہ متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!